Loading
ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی انقلابی گارڈ کور کے انٹیلی جنس ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے لیے فیصلہ سازی کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں اور اسے اب ایران کے حوالے سے مشکل انتخاب کا سامنا ہے۔
ایرانی ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو ایک ’ناممکن فوجی آپریشن‘ یا پھر ایران کے ساتھ ایک ’خراب معاہدہ‘۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران نے امریکا کو اپنے بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک ڈیڈ لائن بھی دی ہے، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی جاری رہی تو صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی امریکا کے خلاف لہجے میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، اور چین، روس اور یورپ کی جانب سے واشنگٹن کے مؤقف پر تنقید بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ فوجی یا سفارتی فیصلے کے عالمی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل