Monday, May 04, 2026
 

لگژری کروز شپ پر خطرناک وائرس کا حملہ، 3 مسافر ہلاک، متعدد متاثر

 



ارجنٹینا سے جنوبی افریقا جانے والے ایک لگژری کروز شپ پر اچانک پھیلنے والے خطرناک ہنٹا وائرس نے خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں اب تک 3 مسافر ہلاک جبکہ کئی مسافر مشتبہ طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جہاز پر ہنٹا وائرس کے ایک تصدیق شدہ اور 5 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ وائرس کے باعث ایک 69 سالہ برطانوی شہری کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جسے جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ جوہانسبرگ یہ خوفناک واقعہ ایم وی ہونڈیس نامی کروز شپ پر پیش آیا جو اوشین وائڈ ایکسپیڈیشنز کی ملکیت ہے۔ جہاز نے 20 مارچ کو اوشایا سے سفر شروع کیا تھا اور اسے 4 مئی کو کیپ ورڈی پہنچنا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے پیشاب یا فضلے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ خطرناک حد تک سانس کی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔ اگرچہ انسان سے انسان میں منتقلی بہت کم ہوتی ہے لیکن موجودہ صورتحال نے مسافروں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔ کروز شپ پر تقریباً 170 مسافر، 57 عملہ، 13 گائیڈز اور صرف ایک ڈاکٹر موجود تھا جس سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بھی صورتحال پر نظر رکھنے اور اپنے شہریوں کی مدد کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل