Loading
سپریم کورٹ نے زور دیا ہے کہ مساجد پر تنازعات میں غیر ضروری عدالتی مداخلت سے بچنا چاہیے کہ ان سے امن وامان میں خلل پڑ سکتا ہے۔
مسجد پر 2 فرقوں کے تنازعے پرجسٹس شاہد بلال اور جسٹس شکیل احمد پرمشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے حکم میں کہا کہ مسجد کے انتظام اور استعمال پر اختلافات معاشرتی ہم آہنگی اور مسجد کے کو مدنظر رکھ کر حل ہونے چاہئیں۔
فرقہ وارانہ لیبل سرکاری مسجد کو از خود مخصوص فرقہ کی ملکیت نہیں بناتا، اس کے انتظام پر تنازعات مسلمانوں کو وہاں عبادت کرنے کے حق سے محروم نہیں کر سکتے۔
اسلام میں مسجد اینٹوں اور گارے سے بنے ڈھانچہ کا نام نہیں بلکہ توحید، یکجہتی، بھائی چارے، مساوات جیسے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنیوالا مقدس ادارہ اور مسلمانوں کی اجتماعی روحانی زندگی کی عکاس ہے، جہاں رنگ ونسل اور سماجی و مالی حیثیت سے بالاتر ہوکر تمام مسلمان عبادت کرتے ہیں۔
قرآن پاک نے باربار ایمان والوں کے مابین یکجہتی اور ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔ قرآنی حکامات واضح کرتے ہیں کہ مسجد خاص گروپ کیلئے مخصوص نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک مخصوص مقام ہے۔
اسلام مساجد میں فرقے کی بنیاد پر اجتماع تسلیم نہیں کرتا، تمام فرقوں کا ایک ہی قبلہ، قرآن اور بنیادی عقائد ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل