Loading
امریکا میں ایک حیران کن سیاسی اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں ریاست کیلیفورنیا کے شہر آرکیڈیا کی سابق میئر پر چین کے لیے غیرقانونی طور پر کام کرنے کا اعتراف کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق سابق میئر ایلین وانگ نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ وہ 2020 سے 2022 تک چینی حکومت کے مفادات کے لیے سرگرم رہیں اور امریکی حکومت کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق 58 سالہ ایلین وانگ نے ایک ویب سائٹ ’یو ایس نیوز سینٹر‘ چلائی، جس پر چین کے حق میں مواد شائع کیا جاتا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم بظاہر چینی نژاد امریکیوں کے لیے خبریں فراہم کرتا تھا، مگر درحقیقت اس کے ذریعے بیجنگ کے مؤقف کی تشہیر کی جاتی رہی۔
محکمہ انصاف کے مطابق وانگ نے ایک ایسے مضمون کو بھی دوبارہ شائع کیا جس میں چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مضمون چینی حکام کی ہدایات پر تیار کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایلین وانگ نے یاوننگ سن نامی ایک شخص کے ساتھ مل کر یہ ویب سائٹ چلائی، جو پہلے ہی چین کے غیرقانونی ایجنٹ کے طور پر جرم قبول کرنے کے بعد چار سال قید کی سزا پا چکا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وانگ نے بطور منتخب عوامی نمائندہ امریکی عوام کے بجائے ایک غیرملکی حکومت کے مفادات کو آگے بڑھایا، جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ اس جرم میں انہیں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب وانگ کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ اپنی ذاتی زندگی میں کی گئی غلطیوں پر معذرت خواہ ہیں، تاہم ان کے اقدامات کا تعلق ان کی سرکاری ذمہ داریوں سے نہیں تھا۔ ان کے مطابق وانگ نے بطور میئر ہمیشہ آرکیڈیا کمیونٹی کی خدمت کی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچنے والے ہیں، جہاں ایران، تجارت اور تائیوان سمیت اہم معاملات پر گفتگو متوقع ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل