Loading
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باجود سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کی انکوئری نہ کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست نمٹادی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے شہری غفران کی درخواست پر سماعت کی، عدالتی حکم پر ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ رپورٹ جمع کرانے کا کیا طریقہ تھا، آپ کے آفیسر نے رپورٹ کے نام پر ایک فوٹو کاپی جمع کرائی، کیا یونیفارم میں سب کچھ کرنے کی اجازت ہے؟، ڈاکٹر صاحب کیا آپ کا محکمہ آپ کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اس طرح تو کوئی پرائیویٹ جگہ پر بھی رپورٹ نہیں دی جاتی، آپ کو پتہ ہے ایسی حرکت پر توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے، ڈسپلن فورس کی جانب سے تو ایسی غیر ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں بتایا کہ رپورٹ پیش کرنے والے افسر کو معطل کردیا ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے افسران کی یہ تیاری کروا کر لاتے ہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر نے کہا ہم عدالت سے معذرت خواہ ہیں آئندہ ایسی لاپرواہی نہیں ہوگی۔ عدالتی حکم پر ایف ائی اے نے انکوئری مکمل کرلی ہے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آئندہ کسی عدالت میں بھی اس انداز میں رپورٹ نہیں جمع ہونی چاہیے، عدالت نے ایف ائی اے رپورٹ کی روشنی میں توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔
درخواست گزار نے سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل کرنے کی انکوئری نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل