Tuesday, May 12, 2026
 

امریکا اب تک ایران جنگ میں 29 ارب ڈالر پھونک چکا ہے؛ پینٹاگون کا اعتراف

 



امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی جنگی پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوچکی ہے جبکہ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کی دفاعی کمیٹی کے روبرو پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر جولز ہرسٹ سوم نے بتایا کہ 29 اپریل کو دی گئی بریفنگ میں جنگی اخراجات کا تخمینہ 25 ارب ڈالر تھا تاہم تازہ ترین جائزوں کے بعد یہ رقم بڑھ کر تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ جوائنٹ اسٹاف اور کمپٹرولر ٹیم مسلسل اخراجات کا تخمینہ لگا رہی ہے اور اب ہمارا اندازہ ہے کہ ایران جنگ میں اخراجات کی مجموعی لاگت 29 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر کے بقول اخراجات میں اضافے کی بڑی وجوہات میں تباہ یا متاثر ہونے والے فوجی سازوسامان کی مرمت و تبدیلی، خطے میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی اور آپریشنل سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔ جس پر کانگریس کے کئی ارکان نے جنگی اخراجات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا امریکا طویل عرصے تک اتنی بڑی مالی لاگت برداشت کرسکتا ہے یا نہیں۔ بعض ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون سازوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو جنگ کے حقیقی مالی اثرات سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بھی اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو امریکی دفاعی بجٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے جبکہ عالمی تیل قیمتوں میں اضافے اور فوجی اخراجات کے باعث امریکی معیشت کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں بحری بیڑے، فضائی حملے، میزائل دفاعی نظام، خطے میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور خفیہ آپریشنز شامل ہیں جن کے باعث دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل