Loading
چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن مذاکرات میں اختلافات کو تیزی سے حل کرکے مستقل حل کی جانب بڑھیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر چین کا مؤقف واضح ہے۔ یہ ایسا تنازع ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تنازع کا جلد از جلد سیاسی اور سفارتی حل نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ جنگ کو طول دینا کسی کے حق میں بہتر نہیں ہے۔
چینی ترجمان ماؤ ننگ نے فریقین پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی کی رفتار کو برقرار رکھیں، سیاسی حل کے راستے پر قائم رہیں اور مذاکرات و مشاورت کے ذریعے ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھے۔
چین نے جنگ بندی معاہدے میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں دیگر ممالک سے بھی اپنا اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں جبکہ پاکستان کا کردار بھی اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس پورے سفارتی عمل میں پاکستان کا کردار خاص طور پر نمایاں ہو رہا ہے۔ اپریل میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلی عارضی جنگ بندی پاکستان کی ثالثی سے طے پائی تھی جس کے بعد اسلام آباد مسلسل دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں میں سرگرم ہے۔
چینی صدر شی جنپنگ نے بھی حالیہ ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل شید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
اس موقع پر چینی صدر نے پاکستان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور مذاکراتی عمل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل