Monday, May 25, 2026
 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 20 لاکھ روپے اپنے بھتیجے کو دیے؟

 



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی خبر سراسر من گھڑت، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہے۔ مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد نے سوشل میڈیا پر جاری مہم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  بعض عناصر دانستہ طور پر عوام کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے اپنے کسی رشتہ دار یا بھتیجے کو سرکاری خزانے سے رقم دی جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ 20 لاکھ روپے کسی فردِ واحد یا وزیراعلیٰ کے کسی مبینہ بھتیجے کو نہیں دیے گئے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ نشتر ہال پشاور میں “ینگ لیڈرز پارلیمنٹ” کا ایک باقاعدہ پروگرام منعقد ہوا تھا جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کی جانب سے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کی درخواست کی گئی، جس پر وزیراعلیٰ نے سینکڑوں شرکاء کی موجودگی میں 20 لاکھ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ مشیر کھیل کے مطابق یہ پروگرام ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا تھا، لہٰذا صوبائی کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی گئی ہے۔ ابھی تک یہ رقم ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کو جاری نہیں کی گئی۔ تمام codal formalities اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد یہ رقم شفاف طریقے سے نوجوانوں کی تنظیم کو فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں نہ کوئی خفیہ معاملہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اقربا پروری شامل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کیلئے مواقع فراہم کرنا عمران خان کا وژن اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ مشیر کھیل نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نوجوانوں کو قومی ترقی میں مؤثر کردار دینے کیلئے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ ذاتی پسند و ناپسند یا سیاسی مخالفت میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور عمران خان کے نظریے کے نام پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ عوام سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ہر خبر پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے کے بجائے حقائق کو جانچیں اور منفی پروپیگنڈے کا حصہ بننے سے گریز کریں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل