Loading
شاہدرہ میں 40 سالہ ذہنی معذور شہری محمد عتیق اصغر کے اندھے قتل کیس کا لرزہ خیز انکشاف سامنے آ گیا جہاں مقتول کا سگا بڑا بھائی ہی مرکزی ملزم نکلا۔
پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن سٹی فرحت عباس کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شاہدرہ انسپکٹر اختر علی نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ مقتول محمد عتیق اصغر کو دریائے راوی کے قریب لے گیا جہاں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر گلے میں پھندا ڈالا گیا اور بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
ملزمان نے واردات کے بعد لاش دریائے راوی میں پھینک دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتول کے بھائی نے قتل کے بعد اغواء کا ڈرامہ رچاتے ہوئے تھانہ شاہدرہ میں اپنے ہی بھائی کے اغواء کا مقدمہ درج کروا دیا تھا تاکہ پولیس کو گمراہ کیا جا سکے تاہم تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کی مدد سے اصل حقائق بے نقاب کر دیے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ ملزمان اب قانون کی گرفت میں ہیں اور مضبوط چالان مرتب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون شکن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل