Loading
گذرے ماہ جرمنی نے اگلے ایک عشرے کے لیے اپنی قومی عسکری حکمتِ عملی کا باضابطہ اعلان کیا ۔جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے آس پاس کی دنیا ایک نئے حظرناک دور میں داخل ہو گئی ہے۔اب یورپ کو روس سے پہلے سے زیادہ خطرہ ہے۔
فی الحال جرمن فوج کی افرادی قوت ایک لاکھ چھیاسی ہزار ہے۔تاہم دو ہزار پینتیس تک یہ تعداد چار لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچائی جائے گی۔اس نفری میں دو لاکھ ریزرو فوجی بھی شامل ہوں گے۔اگر مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کوئی دشواری ہوئی تو لازمی فوجی خدمت کے قانون کو بھی حرکت میں لایا جا سکتا ہے۔یہ قانون دو ہزار گیارہ میں معطل کر دیا گیا تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جرمنی کے چار حصے ہٹلر مخالف اتحادیوں یعنی امریکی ، برطانوی ، فرنچ اور سوویت کنٹرول میں آ گئے۔ جرمن نازی فوجی ڈھانچہ تحلیل کر دیا گیا۔فاتحین نے عہد کیا کہ جرمن سرزمین پر آیندہ کسی جارح حکومت کو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔
جرمنی کے برعکس جاپان پر ہتھیار ڈلوانے کے لیے نہ صرف ایٹم بم گرایا گیا بلکہ آئین میں بھی درج کر دیا گیا کہ جاپان آیندہ جارحانہ عزائم والی مسلح قوت نہیں بنے گا۔البتہ جرمن آئین میں ایسی کوئی واضح شق نہیں ڈالی گئی۔
انیس سو انچاس میں ناٹو کی تشکیل ہوئی۔ سوویت خطرے کا مشترکہ مقابلہ کرنے کے جواز میں عظیم جنگ کے خاتمے کے صرف دس برس بعد نومبر انیس سو پچپن میں مغربی جرمنی کو ایک نئی فوج بنانے کی اجازت مل گئی۔دلیل یہ دی گئی کہ مغربی جرمنی کسی ممکنہ سوویت حملے کا نشانہ بننے والی’’ آزاد دنیا ‘‘ کی پہلی ہراول ریاست ہو گی۔یہی کام فریقِ مخالف ( سوویت یونین ) نے کیمونسٹ مشرقی جرمنی کو معاہدہ وارسا میں شامل کر کے کیا۔
مغربی جرمنی کی نئی فوج بنانے کے اعلان سے چھ ماہ پہلے ہی مئی انیس سو پچپن میں اس ملک کو ناٹو میں شامل کر لیا گیا۔ جنگ کے بعد ملک کے پہلے چانسلر کونراڈ ایڈونار نئی جرمن فوج کی تشکیل کے پرزور حامی تھے۔انھوں نے یہ کارنامہ کرنے کے دو برس بعد ( انیس سو ستاون ) ہونے والے عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی۔
اگر جرمن ووٹر بھی جاپانیوں کی طرح سوچتے تو ایڈونار بری طرح ہار بھی سکتے تھے۔یعنی مسلح ہونے کے جس فیصلے پر جاپان کو دوسری عالمی جنگ کے بعد پہنچنے میں اکیاسی برس لگے اس فیصلے پر جرمن دس برس کے اندر ہی دیگر مغربی ممالک کی حمائیت سے پہنچ گئے۔
مغربی جرمنی کی نئی فوج میں کچھ افسر سابق کالعدم فوج سے بھی لیے گئے کیونکہ تجربہ کار کمانڈروں کی شدید قلت تھی۔انیس سو اسی کے عشرے میں مغربی جرمن فوج کی نفری لگ بھگ پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔تاہم اسے براہِ راست ناٹو کمان کے تحت رکھا گیا اور یہ پابندی بھی برقرار رہی کہ وہ ملک کی سرحدوں تک ہی محدود رہے گی۔انیس سو اکیانوے میں مشرقی جرمنی تحلیل ہو کر متحدہ جرمنی تشکیل پایا۔ مشرقی جرمنی کی نوے ہزار فوج توڑ دی گئی مگر کچھ افسروں کو متحدہ جرمن فوج میں شامل کیا گیا۔
اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے کے سبب جرمن فوج کی نفری انیس سو نوے کے عشرے میں کم کرکے دو لاکھ نفوس تک محدود کر دی گئی تاہم انیس سو چورانوے کے ایک عدالتی فیصلے کے تحت جرمن فوج کو پہلی بار بین الاقوامی امن مشنز میں شمولیت کی اجازت مل گئی۔نائن الیون کے بعد افغانستان میں اترنے والے ناٹودستوں میں جرمن بھی شامل تھے۔بیس سالہ افغان جنگ میں انسٹھ جرمن فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
فروری دو ہزار بائیس میں یوکرین پر روس کی چڑھائی کے بعد یورپی ممالک میں اپنی سلامتی سے متعلق تشویش بڑھی۔ ٹرمپ نے بھی ناٹو کا غیر مشروط ساتھ دینے اور یورپ کا دفاعی بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا۔
چنانچہ اب جرمنی بھی اسلحے کی اسی دوڑ کا حصہ ہے جس میں باقی دنیا بگٹٹ بھاگ رہی ہے۔جرمن چانسلر فریڈرک مرس نے چند ماہ پہلے سینہ ٹھونک کے اعلان کیا کہ آگے دس برس میں جرمن افواج براعظم یورپ کی سب سے مضبوط قوت ہوں گی۔صرف چانسلر مرس ہی نہیں اسی فیصد جرمن عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔
ہر ملک کو طاقت ور بننے کا حق ہے۔ تشویش تب شروع ہوتی ہے جب طاقتور ترین بننے کے خواہش مند ملک میں ایسی قوتوں کو تیزی سے مقبولیت ملنے لگے جو نہ صرف ’’ عظیم سنہری ماضی ‘‘ واپس لانا چاہتی ہوں بلکہ تارکینِ وطن سے بھی اپنی سرزمین کو پاک کرنا چاہتی ہوں۔
جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی ( اے ایف ڈی ) کا انتخابی گراف حالیہ برسوں میں اتنی تیزی سے بڑھا ہے کہ اس وقت وہ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اسے نہ صرف نیو نازیوں بلکہ ایلون مسک اور فرانسیسی دائیں بازو کی حمائیت بھی حاصل ہے اور اب تو برطانیہ میں بھی نائجل فراج کی تارکینِ وطن دشمن ریفارم پارٹی حکمران لیبر پارٹی کے مقابلے میں قبولیت کے پائیدان پر تیزی سے چڑھ رہی ہے۔اس تناظر میں جرمنی اگر آنے والے برسوں میں یورپ کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن کے ابھرتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس کا رخ انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی جانب نہیں ہوگا جسے پورا یورپ بیسویں صدی کے نصف تک اچھی طرح بھگت چکا ہے۔
جرمنی کا موجودہ سالانہ دفاعی بجٹ ایک سو انتیس ارب ڈالر ہے۔یعنی دفاع پر خرچ کرنے والا چوتھا بڑا ملک۔جرمنی کے پاس ناٹو رکن ہونے کے ناتے امریکی اسلحہ بھی ہے اور بہت عرصے سے وہ خود بھی ٹینک ، آبدوزیں ، جنگی بحری جہاز بنا رہا ہے۔اب اس کی توجہ اے آئی ، لیزراور ڈرون ٹیکنالوجی پر ہے اور سب جانتے ہیں کہ جرمنی پچھلی ایک صدی سے یورپ کا معاشی پاور ہاؤس اور صنعتی لیڈر ہے۔
نئی جرمن شاپنگ لسٹ میں اسلحہ اور فوج کی باربرداری کے لیے تقریباً دس ارب ڈالر مالیت کے ساٹھ امریکی شنوک ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں جب کہ اسرائیل سے ساڑھے چار ارب ڈالر مالیت کا ایرو ڈیفنس سسٹم خریدنے کا بھی معاہدہ ہوا ہے۔جرمنی اس وقت اسلحہ فروش ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔یعنی عالمی مارکیٹ کا پونے چھ فیصد حصہ جرمنی کے پاس ہے۔ بڑے گاہکوں میں یوکرین کے علاوہ مصر ، اسرائیل اور بھارت بھی شامل ہیں۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل