Monday, May 25, 2026
 

مسائل

 



جیسے جیسے عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی مہنگائی بڑھ رہی ہے اسی طرح دیگر مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔ دکھاوے کی قربانی کرنے والوں نے اپنے پیسے کے زور پر مہنگے سے مہنگے جانور خریدنے کی دوڑ لگا رکھی ہے۔ ان لوگوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا مقصد اپنا دکھاوا اور جانوروں کی نمائش ہے جس کی تشہیر کے لیے اپنے بڑے گھروں میں جگہ ہونے کے باوجود صرف دوسروں پر رعب ڈالنے کے لیے وہ اپنے گھروں کے باہر سڑکیں، راستے اور گلیاں بند کرکے وہاں اپنے قربانی کے جانور باندھتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں دوسروں کے راستے بند کرکے لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی سختی سے ممانعت ہے اور یہ سلسلہ شہروں میں مسلسل بڑھ رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں۔ بڑے شہروں میں جہاں لوگوں کے گھر چھوٹے یا رہائشی فلیٹوں میں ہے، وہاں کے لوگوں کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ جانور وہ اپنے گھروں میں لا کر نہیں رکھ سکتے۔ ان کے پاس قربانی کے جانور گھروں سے باہر باندھنے کا جواز ہوتا ہے جو قربانی بھی باہر گلیوں اور راستوں پر کرکے گوشت اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں اور جہاں قربانی کرتے ہیں وہ جانوروں کی آلائشیں، گھاس و دانا اور بھالو مٹی بھی وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے لیے قربانی کے جانوروں کی وہاں آلائشیں اٹھانا مشکل ہوتا ہے ،اس لیے وہ باقی کچرا وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ قربانی کرنے والے پانی بہا کر خون وغیرہ کی اپنے گھروں کے سامنے سے صفائی کر لیتے ہیں اور خون آلود پانی نشیبی جگہوں پر جمع رہ کر وہاں سے گزرنے والوں کے لیے کئی روز مسئلہ بنا رہتا ہے اور دھوپ اور گاڑیوں کے گزرنے سے ہی خشک ہوتا ہے۔ یہی حال بارشوں میں بھی ہوتا ہے۔ کراچی میں تو نکاسی آب کا نظام ملک بھر میں سب سے بدتر اور لاہور میں بہتر ہے مگر کراچی کا شہر سیوریج سسٹم کی تباہی کا شکار ہے۔ صفائی کا فقدان اور گندگی کا سلسلہ عیدالاضحی کے بعد کئی روز تک جاری رہتا ہے۔ قربانی کرنے والے ایسے علاقوں میں جہاں بلدیاتی اداروں کی گاڑیاں نہیں پہنچ پاتیں وہاں قربانی کرنے والے آلائشیں اٹھوانے پر کچھ رقم خرچ کرنے کی بجائے آلائشیں اپنے گھروں سے دور کر دیتے ہیں تاکہ ان کے گھر بدبو سے محفوظ ہیں۔ سندھ بالخصوص کراچی میں بلدیاتی اداروں کے لیے بھی آلائشیں اٹھوانا اوپر کی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اپنی گاڑیاں کم ہونے کی وجہ سے کرائے پر سوزوکی پک اپ حاصل کی جاتی ہیں جو تعداد میں اصل سے زائد دکھا کر دعوے کیے جاتے ہیں کہ انھوں نے اتنی بڑی تعداد میں آلائشیں ٹھکانے لگوائیں جب کہ قربانی کے دنوں کے بعد بھی آلائشیں کئی روز تک راستوں پر پڑی نظر آتی ہیں اور علاقوں میں بدبو پھیلی رہتی ہے۔ بلدیاتی ادارے قربانی کی تمام جگہوں پر نہیں صرف اہم سڑکوں اور راستوں پر سفید چونے کا چھڑکاؤ احتیاط سے کراتے ہیں تاکہ بھاری بل وصول کیے جا سکیں۔ دکھاوے، اپنے بھرم اور نمائشی قربانی کرنے والے امیروں کی کمی نہیں جو جانوروں کو ٹینٹوں میں زیادہ روشنی میں رکھتے ہیں جہاں کی صفائی اور حفاظت کے لیے عملہ بھی رکھا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر جانور دیکھنے آنے والوں کے لیے ٹھنڈے پانی، چائے اور بیٹھنے کے لیے کرسیوں اور پنکھوں کا بھی اہتمام ہوتا ہے اور جانوروں کی نمائش کے لیے بھی بڑی تعداد میں تماشائیوں کا رش لگا رہتا ہے جو جانوروں کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہوتے ہیں کہ یہ جانور کتنی رقم میں خریدے گئے۔ اب تو فارم ہاؤسوں پر جا کر مہنگے جانور خریدنا امیروں کا مشغلہ ہے جہاں صحت مند جانور صفائی و اہتمام سے برائے فروخت موجود ہوتے ہیں۔ غریبوں کے لیے تو قربانی مہنگائی میں ممکن نہیں رہی ہے۔ متوسط طبقہ شہر میں سرکاری طور لگی منڈیوں سے ہی خریداری کرتا ہے یہ منڈیاں بھی سرکاری اور پولیس کی کمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں جہاں آنے والوں کی تواضح کے بھی انتظامات ہوتے ہیں مگر سب سہولتوں کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی کی جگہ فراہم نہیں کی جاتی اور منڈیوں میں جگہیں ہی بھاری رقم لے کر جانوروں اور ان کے مالکان کو جگہ دی جاتی ہے۔ ان عارضی منڈیوں میں جانوروں سمیت ہر چیز من مانے نرخوں پر فروخت ہوتی ہے کیوں کہ عیدالفطر کی طرح عیدالاضحی بھی کمائی اور عوام کو لوٹنے کا اچھا موقع بن چکا ہے اور بدقسمتی سے لوگوں کی مجبوری اور تہواروں پر گاہکوں کو لوٹنا معمول بن چکا ہے جب کہ غیر مسلم ممالک کے دکاندار اپنے مسلم گاہکوں کو عیدوں پر خصوصی رعایت دیتے ہیں۔  عیدالاضحی پر ان غریبوں کو بھی قربانی کا گوشت ملنا چاہیے جو مہنگائی کے باعث گوشت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے مگر اس موقع پر اقربا پروری اور مفاد پرستی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور اپنے فریجوں اور ریفریجریٹروں کو بھر کر کئی ماہ تک خود گوشت استعمال کرنا اولین ترجیح بن چکا ہے جس کی وجہ سے غریبوں کو گوشت اس موقع پر بھی میسر نہیں آتا۔ اس موقع پر فریج اور ریفریجریٹروں کی خریداری عروج پر ہوتی ہے کیونکہ قربانی کا گوشت بھی اپنے لیے محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور گوشت کے مستحق محروم کرکے صرف اپنے جاننے والوں کو گوشت بھیجا جاتا ہے اور جواب میں وہاں سے بھی گوشت آنے سے حساب برابر ہو جاتا ہے۔ شرعی طور پر گوشت کا ایک حصہ مستحقین کے لیے ہونا ضروری ہے جب کہ اپنا اور عزیزوں کے دو حصے رکھے گئے ہیں مگر اب مستحقین کو کوئی نہیں پوچھتا یا اچھا گوشت اپنے لیے رکھ کر کسی جاننے والے کو ناپسندیدہ گوشت دے کر سنت ابراہیمی پر عمل دکھا دیا جاتا ہے جس سے قربانی کا حقیقی مقصد ہی پورا نہیں کیا جاتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل