Loading
وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے متضاد فیصلے حکومت کی ویڈلاک پالیسی میں ابہام پیدا کر دیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق ویڈلاک پالیسی سرکاری ملازم جوڑے کو قانونی امید دیتی ہے کہ دونوں کو ایک ہی سٹیشن پر تعینات کیا جائے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ویڈلاک پالیسی کو غیرمعینہ تعیناتی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اس سے کوئی قانونی استحقاق حاصل ہوتا ہے۔
حافظ احسن کھوکھر نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ ویڈلاک پالیسی کی قانونی حیثیت پر تین اہم عدالتی فیصلے جاری ہوئے، 2 فیصلے سپریم کورٹ، ایک وفاقی آئینی عدالت نے دیا، فیصلوں میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی رائے میں واضح اختلاف سامنے آیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں واضح کیا کہ ویڈ لاک پالیسی محض انتظامی گائیڈلائن نہیں، بلکہ متعلقہ حکام کو متاثرہ ملازمین کی جائز توقعات پر عمل کا پابند کرتی ہے، تاوقتیکہ آئینی تقاضوں کے تحت یہ پالیسی ختم یا اس میں ترمیم کر دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے برعکس وفاقی آئینی عدالت نے یکسر مختلف تشریح کرتے ہوئے ویڈلاک پالیسی کو محض ایک انتظامی سہولت قرار دیا، جو مخصوص سٹیشن پر مستقل تعیناتی کا قابل نفاذ حق نہیں دیتی۔
آئینی عدالت کے مطابق ویڈلاک پالیسی کو قانونی استحقاق قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ پالیسی مجاز حکام کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے اختیارات کے تابع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویڈلاک پالیسی کے نفاذ اور قانونی حیثیت پر اختلاف نے دونوں آئینی فورمز کے درمیان قانونی رائے میں فرق کو نمایاں کیا ہے اس کا آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جو عدالتی فیصلوں کی پابندی سے متعلق ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل