Loading
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کیلیے آئی ایم ایف سے باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرصدارت ہوا۔
ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 236Cاور 236K کے تحت ٹیکس شرحوں میں نرمی کیلیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش جاری ہے تاہم مذاکرات سخت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ممبران لینڈ ریونیو پالیسی ایف بی آر سجاد نے کمیٹی کو بتایا کہ جائیداد کی خرید وفروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ جھگڑا ہوگا کیونکہ ٹیکس ریٹ کم کروانا اب ایف بی آر کے اختیار میں نہیں رہا۔
اجلاس میں خلیجی جنگ کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے سرمایہ اور آمدن پاکستان منتقل کرکے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
ماہر معاشیات علی سلمان نے بتایا کہ ملک کے بجلی اور گیس کے شعبوں کا گردشی قرضہ خطرناک حد تک بڑھ کر 5.1 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے جس میں 3.3 کھرب روپے گیس سیکٹر جبکہ 1.8 کھرب روپے بجلی کے شعبے کے ذمے ہیں، پاکستان کا بیرونی قرضہ بھی بڑھ کر 137.56 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل