Wednesday, May 27, 2026
 

ایران امریکا معاہدے کے اہم نکات منظرعام پر آگئے؛ کون سبقت لے گیا کسے مایوسی ہوئی؟

 



پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یاداشت کا پہلا حصہ منظرعام پر آگیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے ایک ابتدائی اور غیر رسمی مسودے تک رسائی حاصل ہوئی ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز شامل ہیں۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا جبکہ امریکا ایران کے اطراف تعینات اپنی فوجی موجودگی کم یا ختم کرے گا اور بحری ناکہ بندی اٹھا لے گا۔ تاہم اس مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمد و رفت کی اجازت اس معاہدے کا حصہ نہیں ہوگی۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کا انتظام ایران عمان کے تعاون سے کرے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فریم ورک ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرسکا کیوں کہ ایران کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد سے قبل عملی اور ٹھوس تصدیق چاہتا ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی میزان کی ایک خصوصی رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایک کثیر سطحی امن عمل کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے اطراف سے اپنی فوجیں ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس میں خطے میں تعینات افواج شامل ہوں گی یا امریکی فوجی اڈوں پر موجود دستے بھی واپس بلائے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اگر 60 روز کے اندر فریقین کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا گیا تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کی صورت میں منظور کیا جائے گا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل