Loading
برطانیہ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر اور خشک موسم کے باعث شہریوں کو پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ کے کچھ علاقوں میں پانی کی قلت اور کم پریشر کی شکایات سامنے آئی ہیں جس کی بنیادی وجہ پرانا انفراسٹرکچر اور ترسیلی نظام میں خرابی بتائی جا رہی ہے۔
جنوب مشرقی انگلینڈ میں حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کے دوران ہزاروں گھرانے پانی سے محروم رہے یا انہیں انتہائی کم پریشر میں پانی دستیاب ہوا۔ متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے جن میں ساحلی قصبے وائٹ سٹیبل کے تقریباً 8 ہزار رہائشی بھی شامل ہیں۔
ساؤتھ ایسٹ واٹر کے مینیجر میتھیو ڈین کے مطابق شہریوں کو ایمرجنسی پانی کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا جبکہ صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
برطانیہ کی ماحولیاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث پانی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مارچ اور اپریل میں معمول سے کم بارشوں نے آبی ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نجی واٹر کمپنیوں کی جانب سے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی کمی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ وائٹ سٹیبل جیسے علاقوں میں اسکولوں کی چھٹیوں کے دوران سیاحت بڑھنے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل