Monday, June 01, 2026
 

اسرائیلی وزیراعظم کا اپنی فوج کو بیروت پر حملے تیز تر کرنے کا حکم؛ لبنان کا احتجاج

 



اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی فورسز کو لبنان کے دارالحکومت میں تابڑ توڑ حملوں کا حکم دیدیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ملکی فوج کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں موجود حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے کرے اور بیروت میں اس کے دہشت گردی کے مراکز محفوظ رہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہماری افواج لبنان کے جنوبی علاقے میں حزب اللہ کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جس سے یہ عسکری تنظیم پسپا ہو رہی ہے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی گزشتہ 26 برس کی سب سے گہری پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ اسرائیل نے ان حملوں پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ حزب اللہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے اور اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملوں کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے جنگ بندی کی روح کے منافی ہیں اور خطے کو مزید وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ادھر لبنانی حکومت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ سے جاری لڑائی میں 3ہزار 330  سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے بھی کہا ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں کارروائی کے دوران اسی عرصے میں اس کے درجنوں فوجی اور چند شہری بھی حزب اللہ کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق اپریل کو ہوا تھا اور پھر اس میں توسیع بھی کی گئی جو اب تک جاری ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل