Loading
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے چار گھنٹے طویل سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ نور مقدم کے خاندان سے معذرت خواہ ہیں اور ان کے دلائل کا محور وقوعے کے وقت مجرم کی ذہنی حالت ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ظاہر جعفر وقوعے کے وقت موجود تھا اور وہ یہ مؤقف بھی نہیں اپنائیں گے کہ اس نے قتل نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور وہ بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ مجرم کے علاج کے آغاز، بیماری کی تشخیص اور طبی ریکارڈ سے متعلق شواہد کہاں ہیں۔ خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا خط بھی پیش کیا، جس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ خط پر 2022 کی تاریخ درج ہے۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کرایا گیا اور ٹرائل کے دوران میڈیا دباؤ موجود تھا، تاہم جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نہ اخباری رپورٹنگ پر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر ذہنی حالت کا مؤقف تسلیم بھی کر لیا جائے تو نظرثانی میں مطلوبہ ریلیف کیا ہوگا۔ خواجہ حارث نے سزا میں رعایت کی استدعا کی اور کہا کہ عدالت ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں نظرثانی میں میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر ابتدا ہی میں مجرم کو آپ جیسے وکیل کی خدمات حاصل ہوتیں تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ سماعت میں نور مقدم کے والدین کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل