Loading
ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نہ جنگ بندی کا خواہاں ہے اور نہ ہی بامعنی مذاکرات چاہتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے آفیشل بیان میں کیا۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایران کو اپنے عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے فیصلہ کن ردعمل دینا ہوگا۔
اسپیکر پارلیمان باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران صرف نعروں یا وعدوں پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ اپنے اقدار، دانشمندی اور منصوبہ بندی کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نہ تو جنگ بندی چاہتا ہے اور نہ وہ کسی مفید مذاکرات کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اس لیے ہمیں اپنی سرزمین اور عوام کے لیے کسی بھی حد تک جانا ہوگا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فوجی، سفارتی، عوامی اور عوامی خدمت کے تمام محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انھیں الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری کو صرف بند کمروں میں ہونے والی بات چیت یا سفارتی مسکراہٹوں تک محدود سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ اگر ایسا کیا گیا تو ناکامی ابتدا ہی سے مقدر بن جائے گی۔
باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی حکمت عملی صرف جنگ یا صرف مذاکرات پر مبنی نہیں ہوگی۔ ہم اپنے وقت پر لڑیں گے اور اپنے وقت پر مذاکرات بھی کریں گے۔ ہمارا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور پائیدار سلامتی کا قیام ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان کے معاملے نے ثابت کردیا، سفارتی اور فوجی محاذ مل کر مخالفین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ بعض مواقع پر مذاکرات معطل کرنے کی دھمکی دے کر بیروت پر حملہ روکا گیا جبکہ بعض مواقع پر عسکری کارروائی کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے بحری دباؤ اور ناکہ بندی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سمندری ناکہ بندی کو بھی دشمن کی ایک اور ناکامی میں تبدیل کردیں گے۔
واضح رہے کہ ایران نے آج ہی اسرائیل پر مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی جارحیت روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ پیشرفت امریکی صدر کے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل