Monday, June 08, 2026
 

وہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے

 



یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکا ، اسرائیل ، ایران جنگ نے دنیا بھر کو معاشی یرغمال بنا رکھا ہے۔سعودی عرب اور اومان کو چھوڑ کر دیگر خلیجی ریاستیں آبی پنجرے ( خلیجِ فارس ) میں قید ہیں اور یہ آبی پنجرہ ایران اور امریکا کی دوہری ناکہ بندی سے تالہ بند ہے۔ ان ریاستوں کو امریکا کی دوستی اور ایران سے دشمنی کی شکل میں دو طرفہ مار پڑ رہی ہے۔  آرام طلب علاقائی ممالک کے برعکس ایران کو پچھلے سینتالیس برس سے پابندیوں ا ور ناکہ بندیوں کے کوڑوں سے مسلسل پٹنے کا تجربہ ہے۔چنانچہ اس نے ریاستی ڈھانچے کو ان پابندیوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ کہتے ہیں جنگ اندھی اور لالچی ہوتی ہے اور مفتوح یا فاتح سے من مانی سیاسی ، سماجی ، اقتصادی و نفسیاتی قیمت وصول کرتی ہے۔اس اصول کے مطابق مسلسل ثابت قدمی کے باوجود جنگ نے ایران کی طنابیں اور کھینچ دی ہیں۔معیشت کی سانس چل رہی ہے مگر اکھڑی اکھڑی سی۔ امریکی عوام کو فی الحال پٹرول پمپوں پر تھوڑا بہت احساس ہو رہا ہے کہ دور کہیں کوئی بے مقصد جنگ ہو رہی ہے جس کا خمیازہ ایندھن کے گیلن کی قیمت میں دوگنا اضافے کی شکل میں جیب پر آ رہا ہے۔مگر امریکا کے حریف ایران کی حالت جو کہ پہلے بھی ٹھیک نہیں تھی اب اور بگڑ رہی ہے۔چنانچہ بالٓاخر فیصلہ اس پر ہو گا کہ کس کا صبر اور قوتِ ارادی پہلے ٹوٹتے ہیں یا کس کی آنکھ پہلے جھپکتی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی تیرہ اپریل سے جاری ہے۔گذشتہ دو ہفتے سے اس میں نئی سختی یہ آئی ہے کہ پہلے امریکی بحریہ ایران سے تیل اٹھانے والے ٹینکرز روک رہی تھی۔ اب اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی ایران پہنچانے والے مال بردار جہازوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔مقصد ایک ہی ہے کہ ایران کو شکنجے میں اتنا کس دیا جائے کہ وہ امریکی شرائط پر امن سمجھوتہ کر لے۔ اٹھائیس فروری کو امریکی اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اپریل کے دوسرے ہفتے میں امریکی ناکہ بندی شروع ہونے تک کے دورانیے میں اگرچہ خلیجی عرب ریاستوں کی تیل اور گیس کی برآمد ٹھپ ہو گئی مگر ایندھن کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کا ایران کو خاصا معاشی فایدہ پہنچا۔ایران کے اسی فیصد تیل کا خریدار چین ہے اور سب کا سب آبنائے ہرمز سے گذرتا ہے۔ مارچ میں ایران نے دو ملین بیرل روزانہ تیل برآمد کیا جو امریکی ناکہ بندی کے بعد گھٹتے گھٹتے تین لاکھ بیرل روزانہ تک پہنچ گیا۔مارچ میں جنگ کے باوجود ایران سوا پانچ ارب ڈالرماہانہ کا تیل فروخت کر رہا تھا۔اپریل میں یہ آمدنی گھٹ کے تین اعشاریہ باسٹھ ارب ڈالر رہ گئی اور آج امریکی ناکہ بندی کے سبب ایران مارچ کی برآمد کے مقابلے میں محض پندرہ فیصد تک تیل فروخت کرنے میں ہی کامیاب ہو پا رہا ہے۔یعنی ناکہ بندی کے بعد سے اب تک ایرانی تیل برآمدات میں لگ بھگ آٹھ ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔ ایران تیل کی پیداوار میں کمی تو کر سکتا ہے مگر یکسر بند نہیں کر سکتا۔ خام تیل کو زخیرہ کرنے کے لیے ایران زیادہ تر خالی ٹینکرز استعمال کرتا ہے۔اندازہ ہے کہ اس وقت ایک سو سینتالیس ملین بیرل تیل ایرانی ٹینکروں میں زخیرہ ہے۔اس میں سے سڑسٹھ ملین بیرل تیل سے بھرے ٹینکرز آبنائے ہرمز اور خلیجِ اومان میں امریکی ناکہ بندی کے سبب لنگر انداز ہیں۔ ایران چاہے تو ریل نیٹ ورک کے زریعے بھی چین کو تیل بھیج سکتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر زخائر جنوبی ایران میں ہیں جب کہ چینی ریفائنریزہزاروں کیلومیٹر پرے چین کے مشرقی ساحل پر ہیں۔ایک سپر آئل ٹینکر بیس لاکھ بیرل تک تیل لے جا سکتا ہے جب کہ اتنی مقدار میں بذریعہ ریل تیل بھیجنے کے لیے درجنوں ٹرینیں درکار ہیں۔ایک ٹرین سے ساٹھ تا ستر ہزار بیرل تیل ہی جا سکتا ہے۔یعنی ریل آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ویسے بھی چین سے براستہ وسطی ایشیا ایران آنے جانے والی مال بردار ٹرینیں زیادہ تر روزمرہ اشیا کی تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔امریکا کی جانب سے آئل ٹینکرز کے ساتھ ساتھ ایران آنے والے دیگر تجارتی جہازوں کوروکنے کے نئے سلسلے کے سبب ایران چائنازمینی نقل و حمل پر مزید دباؤ پڑے گا۔امریکا ایران کے ضبط شدہ اربوں ڈالر بھی واپس کرنے پر تیار نہیں جب تک کہ ایران سے من مانا سمجھوتہ نہیں ہو جاتا۔ ریاستوں کے مابین اقتصادی و عسکری کھینچاتانی کا پہلا اور آخری شکار ہمیشہ عام آدمی ہوتا ہے۔اب تک ایران کی تیسری نسل بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی عادی ہو چکی ہے مگر موجودہ مناقشہ اس کی کمر پر سوواں درہ ہے۔ گذشتہ دس برس کے دوران اقتصادی پابندیوں کے سبب ایرانی مڈل کلاس تیزی سے سکڑی ہے۔مارکیٹ میں بظاہر بنیادی اشیا کی کمی نہیں مگر قیمت اس قدر ہے کہ متوسط طبقے کا آدمی بھی ان دنوں شیلف سے ایک شے اٹھاتا ہے اور قیمت پڑھ کے رکھ دیتا ہے۔ایک برس پہلے تک تہران کی کسی بھی سپر مارکیٹ میں گھسنے والا گاہک کچھ نہ کچھ خرید کر ہی باہر آتا تھا۔اب زیادہ تر لوگ قیمتیں پوچھنے کے لیے بازار یا سپر مارکیٹس کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ جنگ کے بعد حکومت نے تنخواہ دار طبقات کی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ کرنے کے لیے متعدد مالیاتی اقدامات کیے مگر ان تمام اقدامات سے تیز رفتار افراطِ زر ثابت ہوا ہے۔بلکہ ایرانی اب مذاقاً کہنے لگے ہیں کہ ہمارا کوئی بھی میزائیل مہنگائی سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہو سکتا۔ ایک ڈالر اٹھارہ لاکھ ریال کے برابر ہے۔ایک برس قبل ایک کلو چاول ایک اعشاریہ اکتیس ڈالر میں دستیاب تھا آج پونے چار ڈالر فی کلو ہے۔اسی طرح خوردنی تیل کی جو بوتل سال بھر پہلے پچاس امریکی سینٹ کے مساوی ریالوں میں مل جاتی تھی آج اس کی قیمت سوا دو ڈالر کے برابر ہے۔ان حالات میں پنشن یافتہ بزرگوں پر کیا گذر رہی ہو گی۔ آپ سوچ سکتے ہیں۔ جنگ آج شام تک ختم بھی ہو جائے تب بھی ایرانی عوام کی اقتصادی تکالیف راتوں رات مندمل نہیں ہو سکتیں۔ بعد از جنگ ایرانی ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہو گا کہ وہ مسلسل مصائب کے تھپیڑے کھانے والے کروڑوں شہریوں کو کیسے قائل رکھ پائیں کہ بس اچھے دن نکڑ پر کھڑے ہیں۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل