Monday, June 08, 2026
 

کراچی، تعلیمی اداروں کیلیے اینٹی ڈرگ پالیسی ڈرافٹ جاری

 



ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا نے ضلع جنوبی کے اسکولوں، کالجز اور جامعات میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کیلیے نوجوانوں کا تحفظ، محفوظ مستقبل کے عنوان سے اینٹی ڈرگ پالیسی کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا.  تجویز مشاورت اور منظوری کے لیے مختلف تعلیمی اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں، پالیسی ڈرافٹ میں تمام تعلیمی اداروں کو ’’ڈرگ فری، ٹوبیکو فری اور ویپ فری زون‘‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ طلبہ کو منشیات، ویپنگ اور تمباکو مصنوعات کے استعمال سے محفوظ رکھنے کے لیے متعدد عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق والدین کی رضامندی سے طلبہ کی اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کی جا سکے گی، جبکہ مشتبہ کیسز میں رہنمائی ، بحالی اور والدین کی  شمولیت کو لازمی قرار دینے کی سفارش بھی شامل ہے.  پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں انسداد منشیات کمیٹیوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جن میں پرنسپل، کونسلر، اساتذہ، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے.  تیار کردہ ڈرافٹ میں منشیات کی فروخت، ترسیل اور تشہیر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ قانونی حدود کے اندر طلبہ کے بستوں، لاکرز اور ذاتی سامان کی تلاشی کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے.  اس کے ساتھ منشیات کے مثبت ٹیسٹ کو ابتدائی مرحلے میں سزا نہیں بلکہ فلاحی اور بحالی کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ متاثرہ طلبہ کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے.  پالیسی میں طلبہ کے لیے باقاعدہ آگاہی سیمینارز، ورکشاپس اور لیکچرز کے انعقاد، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات کی ترسیل پر خصوصی نگرانی، اور تعلیمی اداروں و پولیس کے درمیان معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں. مزید برآں اسکولوں اور کالجز کے اطراف منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کریک ڈائون کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کی رازداری اور معلومات کے تحفظ کو پالیسی کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے.  تیار کردہ ڈرافٹ کے مطابق والدین کو داخلے کے وقت اینٹی ڈرگ اعلامیہ جمع کرانا ہوگا، ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کا کہنا ہے کہ پالیسی کا مقصد طلبہ کو سزا دینا نہیں بلکہ منشیات کے استعمال کی بروقت نشاندہی، علاج اور بحالی کے عمل کو یقینی بنانا ہے تاکہ نوجوان نسل کو محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل