Loading
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر دستخط کے بعد بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کا مزید سلسلہ جاری رہے گا لیکن یہ عمل شدید عدم اعتماد کے ماحول میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات اور معاہدے کے نفاذ کا پورا عمل ماضی کے تجربات، وعدہ خلافیوں اور اعتماد کی کمی کو سامنے رکھ کر ترتیب دے رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کے عمل اور معاہدے پر عملدرآمد کو اعتماد کے بجائے عدم اعتماد اور سابقہ تجربات کی بنیاد پر منظم کر رہے ہیں اور اس معاہدے کے ذریعے ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی مواقع اور پیش رفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے مذاکرات کو ایران کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت خطے اور ایران کی مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک اعزازی دستاویز ہے۔
ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے مزید کہا کہ معاہدے کے ایک بہت چھوٹے حصے میں معمولی اختلافات تھے تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف اپنی تاریخی مزاحمت کے بعد حتمی فتح کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔
انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ X (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج اور عوام کی مزاحمت نے اس ملک کو تباہی اور شکست کی طرف لے جانے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آپ کی تاریخی مزاحمت اور مسلح افواج کی جرات کے نتیجے میں ایران نے حتمی فتح کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جس پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں جمعے کے روز ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل