Monday, June 22, 2026
 

کیئر اسٹارمر کا دو سالہ دورِ حکومت، کیا کھویا کیا پایا؟

 



مستعفی برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی 2024 میں برطانیہ کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ ان کی قیادت میں لیبر پارٹی نے 14 سال بعد اقتدار میں واپسی کی اور اُس وقت کے موجودہ کنزرویٹیو پارٹی کے رشی سوناک کی ’حکومت‘ کا خاتمہ کیا۔ 4 جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ اسٹارمر نے انتخابی مہم کے دوران معیشت کی بحالی، نیشنل ہیلتھ کے نظام میں اصلاحات، مہنگائی پر قابو پانے اور حکومتی شفافیت کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ کیئر اسٹارمر کے اپنے دورِ حکومت میں اہم اقدامات میں سرکاری اخراجات اور ٹیکس پالیسیوں میں اصلاحات کی کوشش، ہیلتھ سسٹم کے آپریشنز میں تاخیر کو کم کرنے کے منصوبے، صاف توانائی اور گرین انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش، غیر قانونی امیگریشن اور سرحدی سلامتی سے متعلق نئی پالیسیوں کا نفاذ بھی اُن کے دورِ حکومت کے اہم اقدامات میں شامل ہے۔ تاہم اسٹارمر کی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا جن میں سست معاشی ترقی، بلند سرکاری قرضے، ہڑتالیں، مہنگائی اور رہائشی بحران، بین الاقوامی تنازعات اور سلامتی کے مسائل۔ ابتدائی مہینوں میں کیئر اسٹارمر کو عوامی حمایت حاصل رہی تاہم بعد ازاں رفتا رفتا معاشی دباؤ، بجٹ فیصلوں اور بعض متنازع اصلاحات پر تنقید بھی سامنے آئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر وعدوں کے مطابق نتائج نہ دینے کا الزام عائد کیا۔ واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر کو ایک نسبتاً معتدل اور عملی سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ ان کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی لیبر پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانا اور اسے ملکی سیاست میں مرکز کے طور پر پیش کرنا سمجھی جاتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل