Friday, July 03, 2026
 

علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے پہلے تہران قلعہ بن گیا، سخت ترین سکیورٹی نافذ

 



تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے قبل دارالحکومت تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے شہر کے اہم علاقوں میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں جبکہ مختلف پابندیاں بھی نافذ کر دی گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز تہران کے اہم شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر مسلسل گشت کر رہی ہیں تاکہ آخری رسومات کے دوران امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایرانی حکام نے ہفتے سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران تہران کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر خصوصی پابندیاں نافذ رہیں گی جبکہ فضائی حدود بھی مرحلہ وار بند کی جا رہی ہے۔ جمعے سے جزوی طور پر فضائی حدود محدود کر دی گئی ہیں جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر فضائی آپریشن معطل رکھا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت جمعے کے روز تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دیے گئے، جہاں عوام کو آخری دیدار کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی تک ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں ادا کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ان تقریبات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ تک افراد کی شرکت متوقع ہے۔ تہران، قم اور مشہد میں ان دنوں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ شہری بڑی تعداد میں آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔ تہران میں نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات کے بعد علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں مذہبی رسومات ادا کی جائیں گی۔ اس کے بعد میت کو واپس ایران لا کر 9 جولائی کو مشہد میں حضرت امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق دنیا کے تقریباً 30 ممالک کے سرکاری نمائندوں اور اعلیٰ شخصیات کی بھی ان تقریبات میں شرکت متوقع ہے، جس کے باعث سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل