Saturday, July 04, 2026
 

ایران کے سپریم لیڈر کی تدفین، ایک جائزہ!

 



مشرقِ وسطیٰ میں بعض جنازے صرف جنازے نہیں ہوتے، وہ پورے خطے کے جذبات، تاریخ، عقیدے اور سیاست کا مظاہرہ بن جاتے ہیں۔ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور مرکزی جنازہ 9 جولائی کو ایران کے شہر مشہد میں امام رضاؒ کے مزار کے قریب ادا کی جائے گی جب کہ سوگ کی مرکزی تقریبات تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں جاری ہیں۔ اطلاعت کے مطابق تہران میں لاکھوں افراد کی آمد کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ روس، چین، پاکستان، عراق، افغانستان، آرمینیا، تاجکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود تہران پہنچ چکے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سو کے قریب غیرملکی وفود سوگ اور جنازے میں شرکت کریں گے۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ صرف ایک فرد کی موت کا اظہار نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک مزاحمت اور ایک قومی بیانیے کی علامت بن چکا ہے۔ ایران میں ایک ایسا سیاسی نظام ہے جہاں مذہب، تاریخ، انقلاب اور قومی وقار ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکے ہیں کہ عوامی جذبات کو الگ کر کے سیاست کا تجزیہ ممکن نہیں رہتا۔ اسی لیے ایران میں کسی بڑی مذہبی یا سیاسی شخصیت کا جنازہ محض سوگ نہیں ہوتا بلکہ ایک اجتماعی بیانیہ ہوتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں سیاست دانوں کی مقبولیت انتخابات سے ناپی جاتی ہے لیکن ایران میں قیادت کا تعلق صرف ووٹ سے نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے عوام کے ایک بڑے حصے کے لیے قیادت محض حکمرانی کا نام نہیں بلکہ مزاحمت، خودمختاری اور مذہبی شناخت کی علامت ہے۔ ایران نے گزشتہ چار دہائیوں میں جنگ، پابندیوں، سفارتی تنہائی اور مسلسل بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ نے اس قوم کی اجتماعی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس جنگ نے ایرانی معاشرے میں ’’شہادت‘‘ اور ’’قربانی‘‘ کے تصورات کو مزید مضبوط کیا۔ آج بھی ایران کے شہروں میں جنگ میں مارے جانے والوں کی تصاویر صرف یادگار نہیں بلکہ قومی مزاج کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران میں کسی اہم شخصیت کا جنازہ نکلتا ہے تو اس میں صرف غم نہیں ہوتا، ایک عجیب قسم کی مزاحمتی توانائی بھی شامل ہوتی ہے۔ لوگ روتے بھی ہیں اور نعرے بھی لگاتے ہیں۔ مذہبی عقیدت اور سیاسی پیغام ایک دوسرے میں اس طرح گھل جاتے ہیں کہ باہر سے دیکھنے والا بعض اوقات حیران رہ جاتا ہے۔ مغربی دنیا اکثر ایران کو صرف ایک سخت گیر ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے لیکن تہران کی سڑکوں پر جمع ہجوم ایک مختلف حقیقت بھی دکھاتا ہے۔ یہ حقیقت اس جذباتی رشتے کی ہے جو قوموں اور ان کے تاریخی بیانیوں کے درمیان قائم ہو جاتا ہے۔ایران کے سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی تجزیہ کافی نہیں۔ اس کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی نفسیات، مذہبی تاریخ اور خطے کی محرومیوں کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ یہاں قیادت کا تصور صرف انتظامی نہیں بلکہ روحانی اور علامتی بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہاں کے جنازے محض انسانی رخصتی نہیں بلکہ اجتماعی عہد کی تجدید محسوس ہوتے ہیں۔ اس پورے منظر کا ایک علاقائی پہلو بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست پہلے ہی کشیدگی، جنگوں اور طاقت کے توازن سے بھری ہوئی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ، خلیجی ریاستوں کی تشویش اور فلسطین کا مسئلہ، سب اس خطے کو مسلسل بے چینی میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایران کی کسی بڑی شخصیت کا جنازہ صرف اندرونی واقعہ نہیں رہتا بلکہ پورے خطے کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنے قومی بیانیے کو جذباتی انداز میں تشکیل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سوگ بھی سیاسی ہوتا ہے اور سیاست بھی جذبات سے خالی نہیں ہوتی۔ ایرانی قائدین کے جنازے آنے والے وقت کی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں، نئی نسل کے ذہن بناتے ہیں اور قوموں کے اجتماعی شعور کو متاثر کرتے ہیں۔ ایرانی لیڈران کے جنازے صرف جنازے نہیں ہوتے، وہ تاریخ، عقیدے، مزاحمت اور قوم کے اجتماعی احساس کا ایک ایسا منظر ہوتے ہیں جسے صرف خبروں کی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل