Saturday, July 04, 2026
 

دنیا کا پہلا کھرب پتی اور اس کے مضمرات

 



چند دن پہلے خبر آئی کہ ایلون مسک کے اثاثوں کی مالیت ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالرز ہوگئی ہیں تو سوچا کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔ ابھی لکھنے کی نیت بھی پوری طرح نہیں کی تھی کہ دوبارہ اطلاع آئی کہ ان کے اداروں کے حصص کی مالیت میں کمی کے باعث اب وہ دنیا کے پہلے کھرب پتی نہیں رہے بلکہ دوبارہ ارب پتی بن گئے ہیں۔ امریکا میں لکھ پتی، کروڑ پتی اور ارب پتی رہنا اتنا مشکل نہیں کہ جتنا خالی پتی رہنا مشکل ہے، یقین نہ آئے تو بل گیٹس سے پوچھ لیجیے ۔ ایلون مسک سے یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا کہ وہ دنیا میں کھرب پتی بننے والے پہلے شخص تھے اور اگر صدر ٹرمپ کا ہاتھ یونہی ان کے سر اور دیگر اثاثوں پر رہا تو کوئی بعید نہیں کہ اس تحریر کے چھپنے چھپنے تک وہ دوبارہ کھرب پتی بھی بن سکتے ہیں۔ امریکا اور دنیا کے پہلے ارب پتی کا نام جان ڈی راکفیلر تھا۔ یہ 1839 میں پیدا ہوئے اور انھوں نے 1870 میں اسٹینڈرڈ آئل کمپنی بنائی اور اسی کاروبار سے وہ 1916 میں امریکا اور دنیا کے پہلے ارب پتی قرار پائے۔ دنیا اور امریکا نے پہلے ارب پتی سے پہلے کھرب پتی کا فاصلہ 110 سال میں طے کیا اور دنیا نے پہلا کھرب پتی چاہے چند دن کے لیے ہی سہی 2026 میں دیکھا۔   ایک ٹریلین میں ایک کے بعد بارہ صفر ہوتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا ایک ٹریلین سے ایک کوواڈریلین (پندرہ صفر) سے ایک کوئنٹلین (اٹھارہ صفر) سے ایک سیکسٹلین (اکیس صفر) سے ایک سیپٹیلین (چوبیس صفر) سے ایک آکٹیلین (ستائیس صفر) کا فاصلہ کتنے عرصے میں طے کرتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ عدد صرف انگریزی میں ہے اور ہماری گنتی میں ایسے عدد نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی سے پہلے نہ صرف یہ عدد ہماری گنتی میں تھے بلکہ کسی وقت میں ہمارے معاشرے میں اتنا پیسہ بھی ہوتا تھا کہ جس کے لیے یہ گنتی تھی۔ ہرچند یہ پیسہ آج ہمارے معاشرے سے مفقود ہوگیا ہے تاہم گنتی آج بھی باقی ہے۔ ارب دس ارب، کھرب دس کھرب، نیل دس نیل، پدم دس پدم، سنکھ دس سنکھ، مہاسنکھ دس مہاسنکھ۔ معاشرے میں اتنا پیسہ ہونا غلط نہیں ہے لیکن اگر اس کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوجائے تو معاشرے میں اس کے ثمرات سے زیادہ مضمرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اقدار کا جنازہ نکلنے لگتا ہے، لوگ مادہ پرستی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنی دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا ایک عالمی ایمرجنسی کے مترادف ہے۔  دنیا میں اس وقت 3300 ارب پتی ہیں اور اس میں سے 900 ارب پتی صرف امریکا میں ہے۔ دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے %10 امیر ترین افراد دنیا کی %75 دولت کے مالک ہیں اور اب اگر آپ اس کا موازنہ دنیا کے آخری یا غریب ترین %50 فیصد لوگوں سے کریں تو وہ دنیا کی صرف %2 دولت کے مالک ہیں۔ اب یقیناً دولت کا یہ ارتکاز اور لوگوں کی معیار زندگی کا فرق آپ کے سامنے نمایاں ہوگیا ہوگا، اگر اب بھی نہیں ہوا ہے تو اس فرق اور نمایاں کرتے ہیں۔   اگر آپ دنیا کے صفر اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد (%0.001) امیر ترین افراد لے لیں تو یہ تعداد میں 56,000 بنتے ہیں۔ یہ تمام لوگ ایک درمیانے سائز کے اسٹیڈیم میں سما سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ اگر اس کا موازنہ دنیا کے دوسرے پچاس فیصد یعنی پہلے پچاس فیصد نہیں بلکہ دوسرے پچاس فیصد (%100- 51) سے کیا جائے تو ان کے پاس ان کے مقابلے میں تین گنا دولت ہے جب کہ یہ تعداد میں صرف 56,000 ہے جب کہ دوسری جانب تین ارب (3,000,000,000) سے زائد لوگ ہیں۔ اب آپ لوگ یقیناً اس سے بھی متفق ہوجائیں کہ کیوں ماہرین نے دولت کے اس ارتکاز کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ دنیا کو اس وقت ایک نئے عالمی مالیاتی نظام اور ایک نئے عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے ،ورنہ یہ تفاوت دنیا کو ایک نئے ہیجان اور ایک نئے تصادم کی جانب لے جائے گا۔ کمیونزم کی ناکامی کے بعد دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام کا قبضہ مکمل ہوگیا لیکن اب یہ بات بھی روز روشن کی طرح نمایاں ہوگئی ہے کہ یہ نظام بھی چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جو اس کے ذریعے دنیا کی اکثریت کا استحصال کررہے ہیں۔ آج کی دنیا کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ سیاسی اور معاشی نظام جدید دور کے مسائل کا مقابلہ نہیں کر پا رہا اور معاشرے میں عدم مساوات بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کے بنیادی حقوق اور ضروریات کو پس پشت ڈالا جارہا ہیں، اگر دولت مند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غریبوں کا مسئلہ ہے تو دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آج جو چند لوگوں کا مسئلہ ہوتا ہے وہ مستقبل میں تمام لوگوں کا یا پوری دنیا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔   ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے روزگار اور زندگی میں ترقی کے مواقعے بدل رہے ہیں اور ان حالات میں نئے قوانین اور ضابطوں کی اشد ضرورت ہے جو افراد اور قوموں کو برابری کے مواقعے دے اور کسی فرد، قوم یا معاشرے پر اس کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے تاکہ دنیا کو رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنایا جاسکے، اگر کچھ لوگوں یا اقوام کی اجارہ داری قائم رکھی گئی تو بقول آئن اسٹائن یہ پاگل پن ہے کہ آپ ایک ہی کام بار بار کریں اور ہر بار مختلف نتیجے کی امید رکھیں۔   آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ موسمیاتی اور ماحولیاتی بحران ہیں اور تمام ممالک کو اس سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے ممالک پر قوانین کا اطلاق ضروری ہے تاکہ دنیا کو محفوظ رکھا جاسکے۔ اس کے لیے موسمیاتی انصاف کے حوالے سے قوانین بنانے کی ضرورت ہے، اگر وبائی امراض اور دیگر مسائل کا مل کر سدباب نہیں کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ کرہ ارض ناقابل رہائش ہوجائے گی اور امیر لوگ تو شاید اس اسپیس ٹیکنالوجی سے دوسرے سیارے پر چلیں جائے کیونکہ اسی اسپیس ٹیکنالوجی سے اب دنیا کو نئے کھرب پتی ملیں گے، اگر وہاں آبادی ہوئی تو کیا وہ وہاں جاکر ان کو یہ کہہ سکیں گے کہ ہم تو اپنا کرہ تباہ کرکے آپ کے سیارے پر رہنے آئے ہیں۔ اس کو بعد وہاں ان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے یا ہوگا وہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل