Loading
وفاقی بجٹ بھی پاس ہوگیا، اٹھائیسویں ترمیم کا شور شرابہ بھی ختم ہوا۔ نیشنل فنانس ایوارڈ بھی نیا نہیں آیا لیکن صوبوں نے بالخصوص سندھ اور پنجاب نے اپنے اپنے حصے میں سے بھی لگ بھگ آٹھ سو ارب وفاق کو دیے۔ دوسری جانب جو ہر سال دو سو ارب روپے وفاق سے سبسڈی لیتا تھا یعنی پی آئی اے، نجی شعبے کے حوالے ہوا۔ دوسری طرف ہمارے پڑوس کی جو جنگ امریکا سے لگی ہوئی تھی وہ بند ہوئی لیکن وہ ختم ہوئی یا نہیں؟ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک طرف ہمارے اندر کی سیاست ہے، دوسری طرف دنیا کے ہماری طرف اثرات ہیںاور تیسری طرف پاکستان کی سب سے بڑی حقیقت معیشت ہے۔ ہم معاشی اعتبار سے ایک تنگ گلی سے گزر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کوالگ الگ زیر بحث لانے سے پہلے یہاں ایک حقیقت آپ کے سامنے رکھوں کہ گزشتہ سال لگ بھگ آٹھ لاکھ ہمارے ہنر مند لوگ و نوجوان ملک سے چلے گئے اور اس سے پہلے بھی پڑھے لکھے نوجوان ملک سے باہر جارہے ہیں اور یہ کیا ماجرا ہے کہ ہمارے تارکین وطن کی بھیجی ہوئی رقم سے ترسیلات زر دن بدن بڑھ رہے ہیں ،یقینا ایک لحاظ سے خوش آیند بات ہے لیکن جو ملک سے Brain drain ہورہا ہے،اس کی کیا وجہ ہے ؟ خود جو معاشیات دانوں نے brain drain اصطلاح مرتب کی ہے ،اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ یقینا ہمارا لیبر خلیج کے ممالک جاتا ہے اور بہترین بات بھی یہی ہے لیکن یہ حقیقت بہت باریکی رکھتی ہے کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بے روزگاری کی شرح ہے ،وہ بقول ڈاکٹر حفیظ پاشا ،’’ ماضی کے بیس برس کی بدترین سطح پر کھڑی ہے۔‘‘
نوے کی دہائی میں راجیو گاندھی نے بنگلور شہر کو آئی ٹی کا شہر قرار دیا۔ کرتے کرتے سافٹ ویئر انجینئر امریکا گئے ،وہاں پر انھوں نے Silicon Valley میں کام کیا، لاس اینجلس کا یہ وہ علاقہ ہے ، جو اب دنیا کے AI کا مرکز ہے، لیکن ادھر ہندوستان کے سافٹ ویئر انجینئر امریکا کی Silicon Valley لاکھوں ڈالر کماتے تھے،ان کو بنگلور واپس اس سے بھی زیادہ رقم دینے کے لیے تیار تھا تو وہ صاحبان واپس ہندوستان آگئے اور اس سے ہندو ستان کی ترسیلات زر تو کم ہوئیں لیکن ان کے آنے سےvalue-added. ہوئی تو ترسیلات زر کے مد میں جو ان کی طرف سے جو رقوم آئی تھیں، اس سے بھی زیادہ اب پیسے خود ہندوستان بنانے لگا، تو اس سے نئے مواقعے بھی نکلے اور انفرا اسٹرکچر بھی بہتر ہوا۔
دنیا یہ مانتی ہے کہ یہ صدی ایشیا کی صدی ہے۔ جس طرح پانچ سو برس سے یورپ نے دنیا میں ہر طرح سے راج کیا، اب پاور ایشیا منتقل ہورہی ہے۔ ایشیا دنیا کی معیشت کا Locomotive انجن بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایشیا کے ان ممالک کی لسٹ میں آتا ہے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس کوئی پلان ہے کہ ہم اس بدلتے ایشیا میں اپنا مقام جو ساٹھ کی دہائی میں تھا ،واپس بحال کریں۔
ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ کسی وقت بھی لوگ سڑکوں پر نکل سکتے ہیں، جس طرح بنگلادیش ، سر ی لنکا اور نیپال میں ہوا اور اگر نہیں نکل رہے ہیں تو اس لیے کہ یہاں ہر طرح کی الگ الگ داستان ہے اور اس لیے کہ لوگ متفق نہیں ہوپاتے، نہ اب چاروں صوبوں کی زنجیر والی لیڈر رہی۔ پنجاب میں مریم نواز کو عمران خان کا سامنا ہے جو خود خیبر پختونخوا میں بھی ووٹ رکھتے ہیں اوربلاول بھٹو سندھ میں، وہ یقینا کشمیر میں اور گلگت بلتستان میں بھی ہیں لیکن اس کی وجہ اور ہے، جب کہ بلوچستان تو بالکل شورش کی نظر ہوا، وہ ہم مانیں یا نہ مانیں۔ اور سب سے زیادہ بے روزگاری بھی بلوچستان میں ہے ۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو سندھیوں میں شدید احساس محرومی بڑھا ، جب کہ یہ وہ زمانے تھے جب سندھیوں کو وفاق میں بے تحاشہ نوکریاں ملیں۔ ایک پالیسی کے تحت یہ کام ہوا کہ سندھ کے اندر احساس محرومی کو کم کیا جائے، لیکن جو چیز ختم ہونی چاہیے ، وہ ہے جاگیرداری نظام جو سندھ کے اندر 78 سالوں سے قائم ہے، ملک کے دیگر حصوں میں نہیں۔ البتہ جنوبی پنجاب میں جاگیرداری کلچر تاحال موجود ہے جب کہ خبیرپختونخوا اور بلوچستان میں انگریزوں کا قائم کردہ قبائلی اور سرداری نظام چل رہا ہے۔ملائیت اورخانقاہیت بھی قبائلی و سرداری نظام کا حصہ ہے۔
سندھ میں اب پانی کی شدید قلت پیدا ہونے والی ہے ، سمندر اوپر چڑھ رہا ہے۔ ٹھٹھہ اور بدین کی زمینیں اب کھیتی باڑی کے لائق بھی نہیں رہیں ،کوٹری ڈائون اسٹریم میں پانی میسر نہیں ۔ جو پینے کا پانی ہے وہ واٹر لیول زمین کے اندر اور خراب ہونے کی وجہ سے اور نیچے چلا گیا اور اب یہ پانی پینے کے لائق نہیں رہا۔ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، لیکن اگر یہاں ان کے ہنر بہتر کیے جائیں polytechnic ادارے قائم ہوں cottage industry کا جال بچھایا جائے، جاگیرداری نظام جو خود ریاست چلا رہی ہے کیونکہ سندھ کے وڈیرے سندھ کے مفادات پر آسانی سے compromise کر لیتے ہیں۔
اس لیے ان کو آکسیجن دے کر زندہ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ ہاری ،وڈیروں کو ووٹ دل سے نہیں دیتا بلکہ یہ اس کی مجبوری ہے اور اس طرح سندھ کے اندر نئے انداز سے بھوک اور جہالت پنپ رہی ہے۔ سندھ کی حکمران پارٹی بھی اپنا اقتدار مضبوط رکھنے کے لیے اب وڈیروں پر انحصار کرتی ہے اور خود ان کے سامنے جو مقابلہ کررہے ہیں وہ بھی وڈیرے رکھتے ہیں۔ رہا، شہری آبادی کا سوال تو خود ان پر بھی روایتی لیڈر شپ مسلط ہے۔ جو بیوروکریسی اور سرمایہ داروں کا اتحاد ہے۔ مڈل کلاس کی سیاست کہیں نہیں ہے۔
یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، ایک معیشت کی بہتری اور دوسرا سیاسی استحکام ۔ معیشت ایک لحاظ سے بہتر بھی ہے کہ ہمیں فورا کوئی بحران نہیں۔ افراط زر ، زرمبادلہ بہتر رہے، لیکن قرضوں کا حجم اور اس کی debt servicing نے ہماری تمام ٹیکسز کو نگل لیا ہے، انفرا اسٹرکچر و ترقی کی رفتار سست ہے۔ غربت کی لکیر کے نیچے اب پچاس فیصد کے لوگ رہتے ہیں، یہ شرح پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں رہی۔
کل تک جو کام محمد خان جونیجو اور ظفر اللہ جمالی جیسے لوگ کرتے تھے۔ اس بار وہ کام کوئی اور نہیں بلکہ جمہوری قوتیں کررہی ہیں جن کو جنرل مشرف کے زمانے میں جلا وطن رہنا پڑا تھا۔ اس وقت پارلیمان یا سیاسی پارٹیاں مضبوط نہیں۔بنیادی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی long term policy نہیں۔ اٹھارویں ترمیم ان ڈ ائریکٹ انداز میںرول بیک ہوئی ہے، وہ جو این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے فنڈز بڑھے تھے، اب کسی اور طرح سے واپس لیے جارہے ہیں۔
یقینا عمران خان کا پیدا کیا ہوا، بحران ختم ہوا۔ ہم نے ہندوستان کو بھی منہ توڑ جواب دیا،لیکن جو کام ڈاکٹر محبوب الحق کرتے تھے ،ایسے وقت میں کیا کوئی اس وقت اس سسٹم میں کوئی اس آدمی یا ایسی سوچ ہے جو اس ملک کوآنے والے شدید معاشی دبائو سے بچا سکے۔اس لیے سیاسی تعلق اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر ہم میاں عاطف رحمان جیسے معیشت دانوں سے مناظرہ کریں، انھیں تسلیم کریں کہ ایسے ذہن ہمیں اس ملک کی معیشت کے حوالے سے بتا سکیں۔پاکستان نے انسانی وسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بہت بڑے بحران کو دعوت دے دی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل