Loading
کیا میں کچھ دیر کے آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں؟
کیوں نہیں سر! یہ تو میری خوش نصیبی ہو گی…
جھٹ سے اگلی خالی نشست پر کھسک کر ہم نے نشست ان کے خالی کردی۔
جی بسم اللہ، آپ تشریف رکھیں۔
یہ 2013 کا واقعہ ہے۔ کولمبو، سری لنکا میں ایک تین روزہ کانفرنس سے واپسی کا سفر تھا: کولمبو سے کراچی۔ سری لنکا کے ایک معروف تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی نے ایک تین روزہ کانفرنس منعقد کی تھی جس میں ساؤتھ ایشیاء کے ممالک سمیت کچھ عالمی اداروں کے شرکاء بھی شریک ہوئے۔ پاکستان سے لگ بھگ آٹھ دس لوگوں کا وفد اس کانفرنس میں شریک ہوا۔کامیاب صنعت کار اور کئی تعلمی و فلاحی اداروں کے بانی سید بابر علی اسی وفد کا حصہ تھے۔ ان کی اہلیہ بھی شریک سفر تھیں۔کولمبو جاتے ہوئے کراچی سے ہم ان کے فلائٹ شریک تھے۔
کانفرنس کے دوران بار بار مختلف شیشنز میں ان سے آمنا سامنا ہوا۔ براہ راست تعارف نہ تھا لیکن ہر بار سلام کرکے ادب سے گزر جاتے۔ جواب میں مسکراہٹ اور شفقت سے جواب دیتے۔ یوں کئی دنوں سے اجنبیت کے باوجود ایک تعلق سا پیدا ہوگیا۔واپسی فلائٹ پر کھانے کے بعد وہ واش روم سے واپس آئے تو ایک بار پھر نظریں چار ہونے پر مانوس مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا۔ اس موقعے پر سید بابر علی از راہ شفقت اور مہربانی ہماری طرف تشریف لائے اور بلاتکلف یہ مکالمہ ہوا۔
نشست پر بیٹھے تو ہمارے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھ کر پوچھا؛ کیا پڑھ رہے ہیں؟ہم نے کتاب کا ٹائٹل ان کی طرف کر دیا۔۔ زندگی کی یادیں؛ ریاست رام پور کا نوابی دور، مصنفہ جہاں آراء حبیب اللہ۔ ارے واہ۔ یہ تو ہماری فیملی فرینڈز ہیں۔ ان کے خاوند حبیب اللہ انتہائی شاندار اور نفیس انسان تھے،پاکستان میں ایک ملٹی نیشنلکمپنی کے پہلے غیر انگریز ایم ڈی تھے۔ساتھ رکھی لیزلی ہیزلٹن کی لکھی کتاب The First Muslim دیکھ کر بولے۔بہت پائے کی مصنفہ ہیں۔ اسے پورا پڑھیں، بہت عمدہ لکھتی ہیں۔ ان کی پچھلی کتاب چھپی اور پڑھی تو ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا۔ اتفاق سے امریکا میں ہماری رہائش کے قریب ہی رہتی ہیں۔ ان سے ملاقاتیں رہیں۔
یہ ہمارا سید بابر علی سے پہلا باضابطہ تعارف تھا۔ اتفاق سے اسی ہفتے 30 جون ان کا یوم پیدائش تھا ۔ ان سے یہ ملاقات ہمیں ان کے یوم پیدائش کے حوالے سے دوبارہ یاد آئی۔ ان سے بطور کامیاب بزنس مین، صنعتکار اور فلاحی و سماجی خدمات کے حوالے سے غائبانہ تفصیلی تعارف تھا۔ گفتگو شروع ہوئی تو آرٹ، فن اور تعلیمی کاموں کا ذکر بھی ہوا۔ انھوں نے بالخصوص دو ایسے کاموں کی نشان دہی کی جو اپنی نوعیت میں منفرد تھے۔ انھوں نے اپنے ادارے میں پنجابی ادب کی ترویج کے لیے ایک ریسرچ اور اشاعتی شعبہ قائم کیا۔ اس شعبے میں گورنمنٹ کالج کے ڈاکٹر نذیر سمیت کئی عظیم ادیبوں اور دانشوروں نے اپنا تحقیقی کام کیا جسے انتہائی دیدہ زیب انداز میں شائع کیا گیا۔
پنجاب کے مشہور صوفیاء کے کلام کو انتہائی شاندار اور دیدہ زیب انداز میں عام کتاب اور کافی ٹیںبل بکس کی صورت میں شائع کیا گیا۔ اس کے علاؤہ بھی درجنوں ایسی کتابیں اس ادارے نے شائع کیں جن سے پنجابی اور اردو کے فنون لطیفہ کا عظیم ذخیرہ شایان شایان انداز میں محفوظ ہو گیا۔
اسی نشست میں انھوں نے بتایا کہ اندرون شہر اپنے آبائی گھر کو انھوں نے نقش اکیڈمی کی صورت میں مخصوص کردیا۔ جہاں اسکولوں سے محروم یا ضرورت مند اسٹیٹ چلڈرن کو آرٹ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سید بابر علی نے انتہائی فخر سے ہمیں بتایا کہ اس اکیڈمی نے کئی اسٹریٹ چلڈرن کو فنکار بنا دیا جن میں سے کئی خطاط اور مصور بنے، ان میں سے کئی بچوں کے آرٹ کی نمائشیں بھی منعقد ہو چکی ہیں۔ ہمیں دعوت دی کہ آپ بھی کسی اتوار کو تشریف لائیں، میں عموما اتوار کو اپنے آبائی گھر جاتا ہوں، بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ کے ساتھ ساتھ کچھ وقت اس اکیڈمی میں بچوں کے ساتھ گزارتا ہوں۔
ہماری بے ترتیب زندگی کی خلط ملط ترجیحات ایسی رہیں کہ ہم ان کی اکیڈمی تو نہ جا سکے البتہ کچھ عرصے بعد پاکستانی انٹرپنیورز پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سلسلے میں ان سے ملنے گئے، نہایت شفقت سے منصوبہ سنا، جن لوگوں کو خاکے لکھنا مقصود تھا، ان کی فہرست دیکھ کر بولے: اس فہرست میں کچھ نام ایسے ہیں کہ میں ان کی کمپنی میں فٹ نہیں بیٹھتا لہذا معذرت ۔ ہمارا کتاب منصوبہ بوجوہ مکمل نہ ہو سکا لیکن سید بابر علی کے ساتھ ایک تعلق اور ان کی شفقت کا لمس آج تک محسوس ہو رہا ہے۔
انھوں نے اپنی آپ بیتی Learning from Others 2015 میں شائع کی. ان کی کتاب پذیرائی کی تفصیلی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ ان کی گفتگو سننے کے لیے لاہور لٹریری فیسٹیول کے اس ایونٹ کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وہ انتہائی نرماہٹ کے ساتھ اپنی زندگی بیان کر رہے تھے، سننے اور دیکھنے والوں کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ان کے ساتھ ان کی زندگی کے لگ بھگ 90 سال کا سفر پردہ سیمیں پر دیکھ رہے ہوں۔ متحدہ ہندوستان کے لاہور شہر میں ان کی ولادت ایک سید خاندان میں ہوئی۔
یہ سادات گھرانہ اپنی علمی نسبت کے حوالے سے تو معروف تھا ہی کاروباری حوالے سے بھی مضبوط ساکھ کا حامل تھا۔ ابتدائی تعلیم ایچی سن اسکول اور کالج میں حاصل کی ،بیرون ملک انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ واپس لوٹے تو نئے ملک کے مخدوش حالات میں انھوں نے صنعت کاری کا ڈول ڈالا۔ انتہائی مشکل حالات میں اپنے بھائیوں کی معیت میں انھوں نے ایک کے بعد ایک کامیاب ادارے قائم کیے۔ پاکستان کو دو لخت ہوتے دیکھا۔ نیشنلائزیشن کے دور جنوں میں ان کے چھ میں سے پانچ ادارے قومی ملکیت میں چلے گئے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری، سرمایہ کاری اور صنعت کاری کا سفر جاری رکھا۔
سید بابر علی ایک کامیاب صنعت کار اور کاروباری تو ہیں ہی لیکن ان کی انسان دوستی، علم دوستی اور فلاحی، تعلیمی اور فنون لطیفہ کے اداروں کی آبیاری نے ان کی کامیاب زندگی کے ثمرات معاشرے کو اس انداز میں لوٹائے ہیں کہ وہ ادارے اس ملک کے لیے افتخار اور افادیت کا کامیاب نمونہ ہیں۔
پاکستان میں کامیاب صنعت کاروں کی کمی نہیں رہی، لیکن ہر کامیاب صنعت کار معاشرے کا معمار نہیں بنتا۔ سید بابر علی اس اعتبار سے ایک منفرد استثنا ہیں کہ انھوں نے کاروبار کو محض دولت کمانے کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے معاشرے میں تعلیمی اور علمی اداروں کی تعمیر کا وسیلہ بنایا جنھوں نے ہزاروں نہیں، لاکھوں زندگیوں کو متاثر کیا۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS)، علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، ماحولیات کے تحفظ کے لیے WWF-Pakistan کی سرپرستی، تعلیمی وظائف، ثقافتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی، اور پنجابی زبان و ادب کی ترویج کے لیے ان کی مسلسل سرپرستی۔
اللہ تعالیٰ ان کو صحت و سلامتی سے نوازے۔ انھوں نے اپنی ذاتی اور کاروباری ترقی میں جس طرح مختلف اداروں کی صورت میں معاشرے کو شریک کیا وہ لائق تحسین دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل