Loading
کبھی کبھی تاریخ ایک معمولی سی خبر کی صورت میں ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اخبار کے کسی کونے میں شائع ہونے والی چند سطریں دراصل آنے والے زمانوں کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی خبر سامنے آئی کہ بھارت اور پاکستان کی ایک سو سترہ ممتاز شخصیات نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام ایک مشترکہ کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کریں، مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں، سفارتی تعلقات کو معمول پر لائیں، ویزا سہولتیں بحال کریں، فضائی حدود کھولیں اور ایسے اقدامات کریں جو اعتماد سازی کا سبب بنیں۔
یہ محض ایک خط نہیں، برصغیر کے ان لوگوں کی آواز ہے جو جنگ کے نعروں سے زیادہ امن کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی آواز ہے جو جانتے ہیں کہ توپوں کی گھن گرج سے نہ بچوں کے مستقبل بنتے ہیں، نہ بھوک ختم ہوتی ہے اور نہ بیماریوں کا علاج ممکن ہے اور نہ ہی جہالت کے اندھیرے چھٹتے ہیں۔ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ آخر پاکستان اور بھارت کی اصل جنگ کس سے ہے؟کیا ہماری جنگ ایک دوسرے کے غریب کسانوں سے ہے؟ ان مزدوروں سے ہے جو روزانہ اپنے بچوں کی روٹی کے لیے محنت کرتے ہیں؟ ان نوجوانوں سے ہے جو ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں؟ یا ان ماؤں سے ہے جو ہر رات اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی دعائیں مانگتی ہیں؟ یقینا نہیں۔
ہماری مشترکہ جنگ بھوک سے ہے، جہالت سے ہے، بے روزگاری سے ہے، ماحولیاتی تباہی سے ہے، بیماریوں سے ہے اور اس ناانصافی سے ہے جو سرحد کے دونوں طرف عام انسان کی زندگی کو مسلسل دشوار بنائے ہوئے ہے۔
برصغیر کی تقسیم کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران جنگیں بھی ہوئیں، سرحدی جھڑپیں بھی، نفرت کی سیاست بھی پروان چڑھی اور اسلحے کی دوڑ بھی جاری رہی لیکن اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو کیا ان سب سے کسی عام پاکستانی یا عام بھارتی کی زندگی بہتر ہوئی؟
پاکستان میں بھی لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ بھارت میں بھی کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں بھی کسان پریشان ہے، وہاں بھی۔ یہاں بھی مزدور مہنگائی کے ہاتھوں بے بس ہے اور وہاں بھی۔ یہاں بھی نوجوان روزگار کا منتظر ہے اور وہاں بھی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ مشترکہ دکھ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا مگر بدقسمتی سے سیاست نے اکثر ہمیں ایک دوسرے سے دور رکھنے میں زیادہ دلچسپی لی۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نسبتاً بہتر ہوئے، اس کے مثبت اثرات عام لوگوں تک ضرور پہنچے۔ تجارت بڑھی تو کاروبار کو فائدہ ہوا۔ ویزے آسان ہوئے تو بچھڑے خاندان مل سکے۔ ادیب، شاعر، فنکار اور دانشور ایک دوسرے سے ملے تو نفرت کی جگہ مکالمے نے لی۔ کھیلوں کے مقابلوں نے لاکھوں لوگوں کو خوشی دی۔ ثقافتی روابط نے یہ احساس دلایا کہ زبانیں مختلف نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، موسیقی کی دھنیں مشترک ہیں اور دکھ سکھ بھی ایک جیسے ہیں۔
امن کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ہمسایہ ملک ہو جس کے درمیان اختلافات موجود نہ ہوں۔ اصل دانش یہ ہے کہ اختلافات کو جنگ کے بغیر کیسے سنبھالا جائے۔مذاکرات کمزوری نہیں ہوتے بلکہ اعتماد کی علامت ہوتے ہیں۔ ہاتھ ملانا، ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ مستقبل کی ذمے داری قبول کرنا ہوتا ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہمارے خطے میں بعض حلقے امن کی ہر کوشش کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، گویا اگر دو ہمسائے بات کریں گے تو کوئی نقصان ہو جائے گا حالانکہ نقصان تو اس وقت ہوتا ہے جب بات چیت بند ہو جائے، رابطے منقطع ہو جائیں اور نئی نسل صرف نفرت کی کہانیاں سن کر بڑی ہو۔
مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے عام لوگ ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہیں۔ جب بھی ادیبوں، صحافیوں، اساتذہ یا طلبہ کو ملنے کا موقع ملا، انھوں نے ایک دوسرے میں دشمن نہیں بلکہ انسان دیکھا۔ دشمنی زیادہ تر وہاں زندہ رہتی ہے جہاں ملاقات ممکن نہ ہو۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امن صرف شاعری یا تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔ سفارتی تعلقات کی بحالی، ہائی کمشنروں کی تقرری، ویزا سہولتوں کی بحالی، تجارتی روابط، تعلیمی اور ثقافتی تبادلے، فضائی پروازوں کی بحالی اور مسلسل سیاسی مکالمہ، یہ سب ایسے اقدامات ہیں جو اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
اعتماد ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا مگر اس کی ابتدا ایک قدم سے ضرور ہوتی ہے۔
آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت، سائنسی تحقیق، آج کی معیشت اور ٹیکنالوجی عالمی طاقتوں کی ترجیحات بن چکی ہیں۔ ایسے وقت میں اگر جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک اپنی توانائیاں صرف ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے پر خرچ کرتے رہیں تو سب سے زیادہ نقصان اسی خطے کے عوام کو ہوگا۔ ہمارے نوجوانوں کو میزائلوں سے زیادہ معیاری جامعات کی ضرورت ہے۔ انھیں نفرت انگیز تقاریر سے زیادہ تحقیق گاہوں کی ضرورت ہے۔ انھیں جنگی نعروں سے زیادہ روزگار، صنعت، سائنسی ترقی اور انصاف چاہیے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن کا مطلب اپنی قومی خودمختاری یا اصولی مؤقف سے دستبردار ہونا نہیں۔ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور کرنا چاہیے، لیکن مفادات کے تحفظ اور مستقل دشمنی کو ایک ہی چیز سمجھ لینا دانشمندی نہیں۔ اختلافات اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں مگر ان کے باوجود بات چیت، تجارت اور انسانی روابط جاری رہ سکتے ہیں۔ دنیا میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
اس مشترکہ خط کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس پر دستخط کرنے والوں میں مختلف نظریات رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ ان سب کا ایک نکتے پر اتفاق ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کا راستہ مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر دونوں ممالک اپنے وسائل کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی تعلیم، صحت، تحقیق، ماحولیات اور غربت کے خاتمے پر مزید خرچ کریں تو لاکھوں زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ شاید یہی وہ خواب ہے جو اس خط کے پس منظر میں موجود ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر انسان باقی رہتے ہیں۔ وہ بچے اہم ہیں جو کل اس خطے کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ ہم انھیں نفرت کی وراثت دیں گے یا امید کی؟
برصغیر کے دونوں طرف بسنے والے عام انسان کی خواہش بہت سادہ ہے۔ وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے، اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتا ہے، بیمار ہونے پر علاج چاہتا ہے، روزگار چاہتا ہے، امن چاہتا ہے۔شاید اسی لیے مجھے یہ کہنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی سب سے بڑی جنگ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ بھوک، غربت، جہالت، ناانصافی اور پسماندگی سے ہے، اگر ہم نے اس مشترکہ دشمن کو پہچان لیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں نفرت کے معمار کے طور پر نہیں بلکہ امن کے امین کے طور پر یاد رکھیں گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل