Saturday, July 04, 2026
 

پاسپورٹ کی اہمیت

 



ایئرپورٹ پر بے شمار نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پیسہ، رعب، تکبر، احساس برتری، خوش فہمی اور کبھی کبھی دکھ، اذیت، تکلیف اور محرومی بھی۔ ایئرپورٹ ایک عجب جگہ ہے جہاں سے انسان اڑ کر ایک شہر سے دوسرے شہر، ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم چلے جاتے ہیں۔ ماحول، موسم اور مناظر بدل جاتے، لوگوں کی شکلیں، زبان اور رویے بدل جاتے ہیں۔ انسان اپنے اندر کا موسم لیے نہ جانے کہاں کہاں کا سفر کرتا ہے۔ وہ دونوں غالباً فرینڈز یا کزنز تھے۔ لڑکی خاصی خوش شکل تھی اور لڑکا بھی ہینڈسم ۔ دونوں بے پرواہ اپنی باتوں میں مگن ادھر اُدھر لوگوں کا مذاق اڑاتے، چہ میگوئیاں کرتے جا رہے تھے، ان کی زبان اردو نہ تھی۔ جہاز سے اتر کر باہر جانے کے مراحل میں وہ دونوں بڑے مسکراتے کچھ اتراتے نیلے پاسپورٹ والوں (بیرونی پاسپورٹ) کی لائن میں لگے تھے۔ ان کے انداز دوسرے ہرے پاسپورٹ والوں کے لیے بے چاروں جیسے تھے ۔ احساس ابھرا۔۔۔۔ کیا یہ انسان نہیں ہیں۔ کیا کسی اعلیٰ حسب نسب سے تعلق رکھتے ہیں اور بس۔۔۔۔ وقت گزر گیا، سالوں بیت گئے اب بھی کبھی وہ چہرے اسی تاثر سے یاد آ جاتے ہیں۔ ہرے پاسپورٹ رکھنے والوں کی سرزمین پر بدیسی پاسپورٹ رکھنے والوں کا غرور۔ہر ملک کا پاسپورٹ اس کی پہچان شناخت ہوتا ہے اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے بغیر ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ناممکن ہے۔پاسپورٹ کی اہمیت اس وقت اجاگر ہوئی جب حکومتوں کو اس بات کا احساس شدت سے ہوا کہ ان کی حدود میں کوئی دشمن ملک کا جاسوس داخل نہ ہو جائے۔ اس بات کا کیسے پتا چلایا جائے کہ کون ملک کی سرحد میں داخل ہوا ہے، یہ پہلا تحریری اجازت نامہ تھا جسے دیگر یورپی ممالک نے بھی تسلیم کیا۔ 1915 میں برطانوی پاسپورٹ ایک صفحے پر تحریر ہوتا تھا جسے ایک جلد کی صورت میں تہہ کیا جاتا تھا، حفاظت کے خیال سے اس پر شیر اور ایک سینگ والے گھوڑے کی تصویر بھی ہوتی تھی، یہ نشان انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے قومی نشان ہیں۔ بعد ازاں اس میں ترامیم کی گئی اور بدلتے وقت کے ساتھ اجازت نامے میں مذکورہ شخص یا خاندان کی تصاویر بھی ہوتی تھیں۔ آج بھی پاسپورٹ پر تصویر تصدیق کے ساتھ لگی ہوتی ہے تاکہ جعلی ہونے کا شعبہ نہ رہے۔ پاکستان کے پاسپورٹ کا رنگ سبز ہے ،دیگر اسلامی ممالک کے پاسپورٹ بھی سبز رنگ کے ہی ہوتے ہیں جب کہ مغربی ممالک کے پاسپورٹ نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ سرخ رنگ کمیونزم کی علامت ہے، لہٰذا سرخ رنگ کے پاسپورٹ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی کمیونسٹ ملک سے ہے۔پاسپورٹ کے بیرونی صفحے پر عام طور پر ممالک کے قومی نشان اور ملک کا نام درج ہوتا ہے جب کہ اندرونی صفحات پر بھی ممالک کے مشہور مقامات، یادگاروں، عمارتوں، عجائبات اور شخصیات کی تصاویر کا عکس واٹر مارک ہوتے ہیں گویا اپنے ممالک کی نمایندہ اور شناخت کرنیوالے اجسام کی تصاویر جن سے ملک کی پہچان کی جا سکے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے اندرونی صفحات پر بھی مینار پاکستان، بادشاہی مسجد، خیبر پاس، زیارت ریزیڈنسی ، موئن جو دڑو، کے ٹو، قلعہ روہتاس، مزار قائد، فیصل مسجد کے علاوہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تصاویر شامل ہیں۔ اس نئے پاسپورٹ کے ڈیزائن کو 2025 میں منظور کیا گیا تھا۔ پاسپورٹ میں پیچیدہ تبدیلیاں کیوں کی جاتی ہیں، یہ ایک سادہ سی دستاویز بھی تو ہو سکتا ہے تو اس کی وجہ ہے کہ پاسپورٹ میں پیچیدہ تبدیلیوں کا مقصد یہ ہے کہ اس کی نقل آسانی سے نہ ہو سکے کوئی ایسا نشان، سرخی یا واٹر مارک جس سے نقل فوری طور پر پکڑ میں آ سکے اور قومیتوں کی انفرادیت کو بھی نمایاں کر سکے، لیکن افسوس ہمارے پاسپورٹ کے ساتھ نقل کا کھیل جاری ہے اور بیرون ملک کئی ممالک کے لوگوں کو نقلی پاسپورٹ کے ساتھ سفر کرتے پکڑا جا چکا ہے۔ امید تو یہی ہے کہ اس کی حرمت کی حفاظت کی جائے اور غیر قانونی طور پر اس کا استعمال نہ کیا جائے۔ امریکی پاسپورٹ کی اپنی ہی حیثیت ہے کہ اس کے حامل اپنے آپ کو ایک ترقی یافتہ ملک کا شہری سمجھتے فخر محسوس کرتے ہیں، ساری دنیا کا دادا بننے کا شوقین ڈونلڈ ٹرمپ کے حکومتی دور میں عجیب مخمصے کا شکار رہا تھا اور آج بھی ہے۔ اس میں قصور کسی اور کا نہیں بلکہ ان کے اپنے اعلیٰ منصب ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے جن کے کاروباری اب بھی ترپ چالوں سے خائف ہیں، اداکاری کا شوق رکھنا پوری امریکی قوم کو بھاری پڑ گیا کہ نت نئے اداکاری کے جوہر ایک سنجیدہ قوم کے مزاج سے میل نہیں کھاتے۔ ایک سطحی سوچ رکھنے والے پراپرٹیز کے کاروبار سے آگے بڑھنے والے شرح منافع حاصل کرتے کرتے اب ملکوں سے بھی منافع شرح کے چکر میں اپنا دامن بھی جلا رہے ہیں۔ شاید انھیں لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں انھیں ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا جائے گا اور ایک ڈائیلاگ ابھرے گا۔ ’’بابا جی، ہن تسی آرام کرو۔‘‘ اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ اب امریکی پاسپورٹ پر بھی اپنی فنکاری کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں، تاریخ میں تو نام پہلے ہی لکھا جا چکا ہے لیکن ان کی مہر بھی تو ثبت ہونا باقی ہے۔ اس کے لیے امریکا کی ڈھائی سو سالہ سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں ایک خصوصی یادگاری امریکی پاسپورٹ کا ڈیزائن جاری ہوا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ عرف پراسرار بابا کی تصویر بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے ایسا نہ کیا تھا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔ دراصل امریکی پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن شیئر کرتے امریکی صدر نے اپنی ہی تصویر پاسپورٹ پر چھاپ دی اور سوشل میڈیا پر شیئر کرتے لکھا: ’’امریکا کا نیا پاسپورٹ، خوش آمدید، لیکن اچھا رویہ اختیار کریں!‘‘ اب کیا کہیں کہ کہنے کو کچھ رہا نہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل