Loading
مالی سال 2026 کے اختتام پر پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 139 ملین ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025 میں 1۔838 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیاگیا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمارکے مطابق جون 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 649 ملین ڈالر خسارے میں چلاگیا،جبکہ مئی 2026 میں 500 ملین ڈالر اور جون 2025 میں 220 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈکیاگیا تھا۔
ماہرین کے مطابق مالی سال 2026 میں درآمدات میں 19۔5 فیصد سالانہ اضافہ جبکہ مجموعی برآمدات میں صرف 8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھااور سال کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس خسارے میں تبدیل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران اشیااور خدمات کی مجموعی تجارت کاخسارہ بڑھ کر 35۔514 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،جوگزشتہ مالی سال میں 29۔639 ارب ڈالر تھا۔ اشیائے تجارت کی برآمدات کم ہوکر 30۔843 ارب ڈالررہ گئیں، جبکہ درآمدات بڑھ کر 64۔466 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے تجارتی خسارہ 33۔623 ارب ڈالر ہوگیا۔
دوسری جانب خدمات کی برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی،جو بڑھ کر 10۔04 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خدمات کی درآمدات 11۔93 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح خدمات کاخسارہ کم ہو کر 1۔89 ارب ڈالر پر آگیا۔مالی سال 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے بیرونی شعبے کوسہارادیا۔ ترسیلاتِ زر 8۔6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 41۔585 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
جون 2026 میں ترسیلاتِ زر 3۔475 ارب ڈالر رہیں،جو مئی کے مقابلے میں کم لیکن گزشتہ سال جون سے زیادہ تھیں۔پرائمری انکم اکاؤنٹ، جس میں منافع اورسودکی ادائیگیاں شامل ہوتی ہیں، خسارہ معمولی کم ہو کر 8۔438 ارب ڈالر رہ گیا،جبکہ ایک سال قبل یہ 8۔838 ارب ڈالر تھا۔جون 2026 کے دوران اشیاکی درآمدات 6۔147 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 2۔595 ارب ڈالر رہیں۔
خدمات کی برآمدات 956 ملین ڈالر اور درآمدات 931 ملین ڈالر رہیں،جس سے خدمات کے شعبے میں معمولی سرپلس حاصل ہوا،مالی سال 2026 میں مالیاتی کھاتے (فنانشل اکاؤنٹ) میں بھی 1۔21 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈکیاگیا،جبکہ گزشتہ سال اس میں 1۔58 ارب ڈالرکاسرپلس تھا۔
جون 2026 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 19۔689 ارب ڈالر ہوگئے، جو ایک سال قبل 15۔836 ارب ڈالر تھے۔ماہرین کاکہناہے کہ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ کامعمولی خسارہ بظاہر متوازن دکھائی دیتاہے، تاہم درآمدات میں مسلسل اضافے، برآمدات کی کمزورکارکردگی اور ایف ڈی آئی میں نمایاں کمی نے بیرونی شعبے کے بنیادی مسائل کومزید نمایاں کردیاہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل