Saturday, July 18, 2026
 

اخلاقیات

 



قیرت ایک چار سال کی پیاری سی بچی ہے جو اپنے سے دو سال بڑے بھائی کے ساتھ اسکول جاتی ہے مگر وہ اسکول میں نہ کوئی کتاب پڑھتی ہے اور نہ کوئی لکھائی کا کام کرتی ، حتی کہ اس کا بھائی بھی نہ کوئی کتاب ساتھ لے کا جاتا ہے اور نہ نوٹ بک۔ اس سے اسکول سے واپس آنے پر جب میں نے پہلی بار اس سے سوال کیا کہ اس نے اسکول میں کیا پڑھا تھا، اس روز تو اس نے حیرت کے تاثر کے ساتھ مجھے دیکھا۔ ’’ میں نے اسکول میں صرف کھیلا تھا، اپنی دوستوں کے ساتھ!‘‘ اس نے اپنی آنکھیں گھما کر جواب دیا۔ ’’ اوکے ، کیا نام ہیں، آپ کی دوستوں کے؟‘‘ میںنے اگلا سوال کیا، بچوں سے دوستی لگانے کے لیے اسی نوعیت کے سوالات کیے جا سکتے ہیں۔ ’’ دعا… ‘‘ اس نے فوراکہا اور تھوڑے سے توقف کے بعد باقی سہیلیوں کے نام بھی بتائے۔ شاید وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ وہ اس کی اچھی دوست ہیں بھی کہ نہیں۔ اس سے بات کرتے کرتے میرا فون ہاتھ سے پھسل کر نیچے گرا، ’’ اوپس!!‘‘ کہتے ہوئے اس نے جھک کر میرا فون اٹھا کر مجھے دیا اور میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے جوابا ’ ویلکم ‘ کہا اور مسکرا کر دیکھا۔ میں نے اس بات کو بہت نوٹ کیا کہ وہ دونوں بہن بھائی، اس وقت تعلیم کے میدان میں اپنے اولین قدم رکھ رہے ہیں مگر ان کے مینرز بہت اچھے تھے- سوری، تھینک یو، پلیز، ویلکم، الحمدللہ، بسم اللہ، السلام علیکم، وعلیکم السلام اور شب بخیر… یہ سب الفاظ ان کا معمول ہیں، خواہ وہ گھر سے سیکھتے ہیں، اسکول سے یا اپنی قرآن ٹیچر سے، ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ سوری کا لفظ بچوں کی انا کو ٹھیس پہنچاتا ہے، اس لیے بچوں سے اس کی توقع کرنا چاہیے اور نہ ہی اپنے بچے کو مجبور کریں کہ وہ دوسروں کو سوری کہے۔ میں نے بہت سے والدین کو اپنے بچوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہوئے اور شرمندہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے کہ فلاں کو سلام کریں، کسی کو شکریہ کہیں، پلیز کہہ کر بات کریں، مزاج کی گرمی نہ دکھائیں۔ کسی سے اختلاف ہو جائے تو اپنی حد پار نہ کریں مگر ایسے حالات میں ہمارے ہاںکے بچے عموما والدین کو شرمندہ ہی کرتے ہیں۔ کوئی بھی والدین نہیں چاہتے کہ ان کا بچہ ایساہو مگر کچھ بچے شرمیلے ہونے کی وجہ سے اور کچھ اپنے آپ میں مگن رہنے کی وجہ سے ایسے مینرز کا مظاہرہ کرتے ہیںاور یوں بھی ہمیں علم ہے کہ بچے والدین کی نسبت اپنے اساتذہ کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ اساتذہ ان کے پہلے پہلے mentor ہوتے ہیں اور ان سے ایسا لگاؤ ہوجاتا ہے کہ سارے ہی بچے بچپن میں کہتے ہیں کہ انھیں بڑے ہو کر ٹیچر بننا ہے ۔ چھوٹے بچوں کے کھیل بھی ایسے ہوتے ہیں کہ گروپ کا ایک بچہ استاد بن جاتا ہے اور باقیوں کو شاگرد بنا کر ویسے ہی ایکٹ کرتا ہے جیسے کہ اس کی اسکول کی ٹیچر کرتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان بچوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، کوئی بھی بڑا ہو کر ٹیچر نہیں بننا چاہتا۔ پھر وہ لوگ ٹیچر بن جاتے ہیں جنھیں کوئی اور ملازمت نہیں ملتی یا وہ کسی بھی جگہ میرٹ پر نہیں آتے۔ میڈیکل اور انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں بھی شادی کے بعداپنی ڈگریاں درازوں میں رکھ کر گھر داری میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ ہمارے بہت بچپن میں اسکولوں میں ’’ اخلاقیات‘‘ کا مضمون پڑھایا جاتا تھا جو کہ انھی مینرز پر مشتمل ہو تا تھا۔ ہم نے شہریت اور اخلاقیات کو فالتو مضامین سمجھ کر نصاب سے حذف کردیا اور بچوں کو سوشل میڈیا کے حوالے کردیاکہ اس کی پرورش کریں۔ اسی سوشل میڈیا نے بچوں کو وہ منفی اوصاف سکھائے ہیں کہ کسی کی تعظیم کرو نہ تکریم اور نہ ہی کسی کو خود سے بہتر گردانو۔ اس وقت ہمارے ملک میں جس نوعیت کے جرائم اور وارداتیں ہو رہی ہیں، وہ اس سے چندبرس پہلے تک بھی نہیں تھیں۔ چند دن قبل کسی نے مجھے ایک پوسٹ بھیجی جو کہ آپ کی نظر سے بھی گزری ہوگی جس میں یہ سکھایا جا رہا ہے کہ آج کل کے حالات میں کسی سے جھگڑا نہ کریں، کسی کو روک ٹوک نہ کریں۔ میں بھی یہی تجویز کروں گی کہ اگرآپ کہیں سے گزر رہے ہیں اور آپ کی نظر کے سامنے کوئی کسی کو مار رہا ہو، کسی کی عزت پر ہاتھ ڈال رہا ہو، کسی بچی یا بچے کو اغوا ء کررہا ہو، کسی کا موبائل چھین کر بھاگ رہا ہو، کسی کی جیب کاٹ رہا ہو تو آپ نظر چرا کے گزر جائیں۔ کوئی آپ کے ہاتھ سے بھی کچھ چھین کر بھاگ جائے تو آپ اللہ کا شکر ادا کریںکہ اس نے صرف آپ کے ہاتھ سے کچھ چھینا ہے، کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کردیں ، بحث سے گریز کریں۔ گاڑی کی چابی مانگے تو بلا تردد دے دیں، ساتھ والٹ بھی نکال کر دے دیں، اسے پٹرول کا خرچہ بھی نہ کرنا پڑے۔ اس کے جانے کے بعد آرام سے پیدل چل کر یا کسی سے لفٹ لے کر گھر جائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ خود زندہ ہیں، یہ چھوٹے چھوٹے بچے جب غلط سمت میںجانا شروع ہوتے ہیں تو اس وقت ہم انھیں بگڑنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور جب وقت آتا ہے کہ یہ بگڑے ہوئے بچے عفریت بن جاتے ہیں تو پھر ہم کچھ نہیں کرسکتے… اس کے بعد جو کچھ بھی کرنا ہوتا ہے ، انھی کو کرنا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل