Loading
کراچی کے 18 سرکاری و نجی صحت مراکز میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی خصوصی انسپیکشن مہم کے دوران سنگین خلاف ورزیاں سامنے آگئی ہیں۔
ترجمان سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) کے مطابق کمیشن نے انفیکشن سے بچاؤ، مریضوں کی حفاظت اور صحت کے اداروں میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں خصوصی انسپیکشن مہم مزید تیز کر دی ہے اور اسی سلسلے میں کراچی کے اضلاع ویسٹ، ساؤتھ اور ایسٹ میں سرکاری و نجی صحت مراکز کا اچانک معائنہ کیا گیا اور اس دوران متعدد سنگین بے ضابطگیاں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 18 صحت مراکز کا معائنہ کیا گیا، جن میں 10 کلینکس، 4 اسپتال، 2 میٹرنٹی ہومز اور 2 پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز شامل تھے، انسپیکشن ٹیموں نے رجسٹریشن، لائسنسنگ، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (آئی پی سی)، طبی فضلے کی محفوظ تلفی، اسٹریلائزیشن، مریضوں کی حفاظت اور دیگر طبی معیارات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ترجمان نے بتایا کہ معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 18 میں سے 11 صحت مراکز بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے تھے، 5 رجسٹرڈ اداروں کے پاس سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا لازمی پروویژنل لائسنس بھی موجود نہیں تھا، صرف 2 صحت کے ادارے ایسے پائے گئے جو رجسٹرڈ بھی تھے اور ان کے پاس پروویژنل لائسنس بھی موجود تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے تمام خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو سات روز کے اندر خامیاں دور کرنے اور متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مقررہ مدت میں ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کے تحت مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انسپیکشن کے دوران ضلع ساؤتھ کے ایک بڑے میٹرنٹی اسپتال میں انتہائی سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جنہیں مریضوں، بالخصوص نومولود اور زچہ کی صحت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، ان خلاف ورزیوں کی بنیاد پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اس اسپتال کے نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ (این آئی سی یو)، آپریشن تھیٹر اور سینٹرل اسٹرائل سپلائی ڈپارٹمنٹ (سی ایس ایس ڈی) کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
ترجمان کے مطابق مجموعی طور پر دو میٹرنٹی ہومز، ایک اسپتال اور ایک پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر باضابطہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، معائنے کے دوران متعدد صحت مراکز میں طبی فضلے کی محفوظ تلفی، استعمال شدہ سرنجوں اور دیگر بائیو میڈیکل ویسٹ کے مناسب انتظام، اسٹریلائزیشن اور انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی بھی خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جنہیں صحت عامہ کے لیے تشویش ناک قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن مریضوں کی جان سے کھیلنے، غیر معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گا اور محفوظ انجیکشن، مؤثر اسٹریلائزیشن، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (آئی پی سی) اور طبی فضلے کی محفوظ تلفی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ خصوصی انسپیکشن مہم آئندہ بھی صوبے بھر میں جاری رہے گی تاکہ تمام صحت کے اداروں کو مقررہ طبی اور قانونی معیارات کا پابند بنایا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ، معیاری اور ذمہ دارانہ طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل