Saturday, July 18, 2026
 

پلاسٹک کے کچرے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ!

 



سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے اور صاف توانائی کے حصول جیسے دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نیا طریقہ پیش کیا ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے فضلے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق میں بیان کیے گئے اس طریقے کو ’الکیلین تھرمل ٹریٹمنٹ (اے ٹی ٹی)‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن تیار کر سکتا ہے جبکہ اس میں بڑے پیمانے پر کچرے کو چھانٹنے کی ضرورت بھی کم پڑتی ہے۔ اس عمل سے براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں پلاسٹک کے کچرے کا صرف ایک محدود حصہ ہی دوبارہ استعمال (ری سائیکل) ہو پاتا ہے کیونکہ اس کی چھانٹی اور صفائی کا عمل مہنگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے کیمیکل انجینئرنگ اور مٹیریل سائنس کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق عملی طور پر پھینکا جانے والا پلاسٹک اکثر خوراک کے ذرات، چپکنے والی اشیا، لیبلز، رنگوں اور دیگر کیمیکل اجزا سے آلودہ ہوتا ہے جبکہ کئی پلاسٹک مصنوعات مختلف تہوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں الگ کرنا مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے کو کم کرنے اور کم کاربن والی توانائی کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل