Loading
خلیج میں جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں ٹریفک بلاک ہوتی رہی ہے، اس دوران پٹرولیم کی عالمی مارکیٹ میں نرخوں میں بھی زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا رہا ہے، ایران اور امریکا کے درمیان جب مفاہمتی معاہدہ ہوا تو تیل کے نرخوں میں بتدریج کمی آئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں خلیجی جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی نیچے آ گئیں۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوئے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم جب قیمتوں میں کمی ہوئی تو اسی تناسب سے مختلف ملکوں کی حکومتوں نے بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کر دی۔
پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں اور پھر کم بھی ہوتی رہی ہیں تاہم صارفین کو یہ شکوہ رہا ہے کہ جب قیمتیں کمی ہوئیں تو عالمی مارکیٹ کے تناسب سے کمی نہیں ہوئی۔ بہرحال حکومت کا اس حوالے سے اپنا مؤقف ہے۔ ابھی اگلے روز حکومت پاکستان نے ڈیزل 31 روپے 5 پیسے جب کہ پٹرول5 روپے 44 پیسے فی لیر مہنگا کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اضافہ ایک ہفتے کے لیے نہیں بلکہ آیندہ تین روز کے لیے کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے35 پیسے فی لٹر ہوگئی، پٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کے بجائے اسے یومیہ بنیادوں پر کر دیا ہے یعنی اب روزانہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر ہوں گے۔
وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے پٹرولیم قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہوگا، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی کے حساب سے روز مرہ کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور ریٹ ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اوگرا کو قیمتوں کے تعین کی ذمے داری دے دی ہے اور اب اس کا تعین حکومت نہیں کرے گی۔
انھوں نے وضاحت کی ہے کہ اوگرا آزادانہ طور پر عالمی منڈی کے حساب سے اب روز مرہ کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گی اور جیسے ہی عالمی منڈی میں کمی ہوگی تو قیمتیں کم جب کہ اضافے پر بھی ایسے ہی یومیہ اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
انھوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ لیوی اور کاربن سپورٹ عالمی معاہدوں کے تحت ہے، جنگ سے پہلے کی سطح آج بھی برقرار رہے جب کہ معاہدے کے علاوہ کوئی اضافی بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا۔ وزیراطلاعات عطا اللہ تاررنے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو حکومت نے 129 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرکے سبسڈی دی ، قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اوگرا ورکنگ جلد جاری کردے گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام رائج ہے تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ یہ آسان نہیں کیونکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز پر بوجھ پڑتا ہے اور حکومت کو اس چیز کا اچھی طرح سے اندازہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر تعین سے عالمی منڈی کا اتار چڑھاؤ عوام تک پہنچ جائے گا۔ پٹرولیم لیوی جنگ کے وقت جتنی تھی اُس سے کم ہے اور اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، اب یومیہ بنیاد پر تعین ہوگا تو نظام شفاف ہوجائے گا۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں اب الیکٹرک بائیکس اور گاڑیوں کی طرف جانا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت سیاست نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آئل مارکیٹنگ کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے، اگر کسی کو سیرحاصل گفتگو کرنا ہے تو پھر وہ بیٹھے اور تجاویز دے۔
حکومتی وزراء کی وضاحتیں اور باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی تاہم یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنا ملک کی معیشت اور کاروبار کے لیے سودمند ہو گا یا نقصان دہ ہو گا؟
ٹرانسپورٹ کا شعبہ اس میکنزم کے بعد کرایوں کا تعین کس فارمولے کے تحت کرے گا؟ پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے تو نئی پٹرولیم پالیسی کو مسترد کر دیا ہے، میڈیا کے مطابق ایسوسی ایشن نے آیندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی سے آئل ٹینکرز، ٹرانسپورٹیشن اور قیمتوں کے تعین کا نظام متاثر ہوگا۔
یقینا اس صورت حال میں عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ادھر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار بھڑک اٹھی ہے۔ اس جنگ میں اب یمن کے حوثی بھی شامل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے تقریبا 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل معمول پر واپس نہ آئی تو عالمی توانائی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے لہٰذا پوری دنیا کو تشویش ہونی چاہیے کیونکہ تیل کی فراہمی اب بھی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستان میں تو صرف تیل ہی نہیں بلکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرادی۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے درخواست جون کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے جس پر نیپرا اتھارتی 29 جولائی کو سماعت کرے گی۔
اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو لازمی ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ ادھر عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی سطح پر اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (Strategic Petroleum Reserve) قائم کرنے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اگر ایسا ہے تو یہ ایک بہتر اقدام ہو گا۔ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی بھی علاقائی جنگ، آبنائے ہرمز میں رکاوٹ یا عالمی سپلائی بحران کی صورت میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمدات سے پورا کرتا ہے جب کہ سالانہ کھپت تقریباً 21 ملین ٹن ہے۔ ملک میں روزانہ اوسطاً 55سے 60ہزار ٹن پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے بڑا صارف ہے جب کہ اس کے بعد صنعت، زرعی شعبہ اور محدود پیمانے پر بجلی کی پیداوار کا نمبر آتا ہے۔ پٹرول کی کھپت میں مسلسل اضافہ موٹر سائیکلوں، کاروں اور کمرشل گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے ہو رہا ہے جب کہ ڈیزل کی زیادہ تر کھپت مال بردار ٹرانسپورٹ، بسوں، ٹریکٹروں اور زرعی مشینری میں ہوتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاکستان نے تقریباً 11.2 ارب ڈالر مالیت کی پٹرولیم درآمدات کیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ہر اضافے کا براہ راست اثر پاکستان کی درآمدی لاگت، مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ایک لٹر پٹرول پر تقریباً 78روپے پٹرولیم لیوی اور تقریباً 2.50روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے جب کہ جنرل سیلز ٹیکس بدستور صفر فیصد ہے۔
اس طرح حکومت کو ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 80سے 81روپے براہ راست محصولات حاصل ہو رہے ہیں۔ ادھر مالی سال 2026 کے اختتام پر پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 139 ملین ڈالر خسارے میں رہا جب کہ گزشتہ مالی سال 2025 میں 1۔838 ارب ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیاگیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 649 ملین ڈالر خسارے میں چلاگیا جب کہ مئی 2026 میں 500 ملین ڈالر اور جون 2025 میں 220 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈکیاگیا تھا۔
ماہرین کے مطابق مالی سال 2026 میں درآمدات میں 19۔5 فیصد سالانہ اضافہ جب کہ مجموعی برآمدات میں صرف 8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھااور سال کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس خسارے میں تبدیل ہوگیا۔ ادھر خدمات کی برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
مالی سال 2026 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے بیرونی شعبے کوسہارادیا۔ ترسیلاتِ زر 8۔6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 41۔585 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جون 2026 میں ترسیلاتِ زر 3۔475 ارب ڈالر رہیں،جو مئی کے مقابلے میں کم لیکن گزشتہ سال جون سے زیادہ تھیں۔
پاکستان کی حکومت اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام پیدا کر لے تو ملکی معیشت میں بہتری آئے گی جس سے کاروباری سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔ روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین ملکی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل