Saturday, July 18, 2026
 

کراچی مسائلستان کب تک؟

 



کراچی کو مسائل کا شہر کہا جاتا ہے تو یہ کسی طرح بھی غلط نہیں ہے۔ بدقسمتی سے اس شہر کے رہنے والوں کو ہر قسم کے شہری مسائل کا سامنا ہے۔ یہ بات کراچی کے متعلقہ اداروں کو پتا ہے، وہ بے خبر نہیں ہیں مگر کیا کیا جائے کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ کئی مصلحتوں کا شکار ہیں۔ اس وقت کراچی کے عوام سب سے زیادہ پانی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ آئے دن کراچی کے اکثر علاقوں میں پانی کے بند رہنے کی شکایت عام ہے، پھر گدلے پانی کی سپلائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کبھی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے جانے کا بہانہ، کبھی مینٹی نینس کے بہانے، کئی کئی روز تک پانی بند رکھا جانا مگر ٹینکروں کو برابر پانی کی سپلائی جاری رہنا۔ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ شاید یہ اس لیے ہے کہ پانی بعض لوگوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ شکایت عام ہے کہ پانی بیچ کر متعلقہ لوگ نیچے سے اوپر تک سب ہی نہال ہو رہے ہیں۔ دراصل شہری مسائل کے حل میں جو مصلحتیں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں وہ رکاوٹیں یقیناً مالی مفادات سے وابستہ ہیں مگر یہ عوام کے لیے مہنگائی کے اس دور میں دہرے عذاب کا سبب بنی ہوئی ہیں، گو عوام احتجاج کرتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ اب گلشن اقبال کے بلاک 2 کو ہی لے لیجیے، یہاں تقریباً 15 دن سے مسلسل کیچڑ ملا ہوا کالا پانی گھروں میں آ رہا ہے۔ کئی مرتبہ شکایات درج کرائی جا چکی ہیں مگر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے، البتہ اس علاقے میں واٹر ٹینکروں کا کاروبار خوب چل رہا ہے۔ وہ نہ جانے کہاں سے صاف پانی لا رہے ہیں۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کا K-4 منصوبہ نہ جانے کیوں مسلسل لیت و لال کا شکار ہے۔ ایسا کون سا شہری مسئلہ ہے جو اس شہر میں موجود نہیں ہے۔ اب سڑکوں کو ہی لے لیجیے، ابھی تو بارش نہیں ہوئی ہے، اس وقت ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر جیسے تیسے ٹریفک رواں ہے، جب بارش ہوگی تو پھر سڑکوں کا کیا حال ہوگا؟ موجودہ صورت حال بھی شہریوں کے لیے تو پریشان کن ہے ہی، ساتھ ہی گاڑیوں کے انجن اور ٹائروں کے لیے موت اور زیست کا معاملہ ہے۔ اس وقت کراچی یونیورسٹی روڈ کا حال ناگفتہ بہ چل رہا ہے۔ یہاں میٹروبس چلانے کے لیے تعمیراتی کام جاری ہے، یہ کام گزشتہ پانچ سالوں سے جاری ہے مگر کام کی سست رفتاری بتا رہی ہے کہ یہ ابھی پانچ سے سات سال مزید جاری رہ سکتا ہے۔ اس وقت نیپا چورنگی سے نیو ٹاؤن پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگنا معمول بن چکا ہے۔ کاش کہ ہمارے متعلقہ اداروں کے منتظمین عوامی پریشانیوں کا احساس کر سکیں۔ پانی کے مسائل تو اپنی جگہ ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے الگ شہریوں کو بے حال کر رکھا ہے۔ اب بجلی والوں نے یہ نعرہ اپنا لیا ہے کہ ’’بل دو، بجلی لو۔‘‘ بھئی! یہ نعرہ بل نہ بھرنے والوں پر تو ضرور صادق آتا ہوگا، مگر جن علاقوں کے لوگ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں وہاں بھی بجلی اکثر ندارد ہوتی ہے۔ غلط بجلی کے بل اور اووربلنگ کی بات تو یہاں کی ہی نہیں جا رہی ہے۔ پھر شہر میں کئی گٹر بغیر ڈھکنوں کے ہی چل رہے ہیں۔ ایسے بغیر ڈھکنوں کے گٹروں میں گرنے سے شہر میں کئی اموات ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گٹروں کی صفائی کا مسئلہ اور پھر برسات کے موسم میں سڑکوں سے پانی ہٹانے کا مسئلہ بھی آگے آنے والا ہے۔ اس کے لیے کتنی تیاری کی گئی ہے، شہر میں ٹرانسپورٹیشن کا حال بھی بگڑا ہوا ہے۔ سرکاری بسیں صرف خاص خاص جگہوں کے لیے چلتی ہیں۔ شہر سے چنگ چی رکشوں کو کئی سڑکوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں بہت دشواری پیش آ رہی ہے۔ چنگ چی ایک تو سستی سواری ہے پھر یہ شہر کے اکثر علاقوں تک پہنچنے کا آسان ذریعہ ہے مگر اب کئی علاقے ان سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مزدا والوں کی سہولت کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔ کراچی کے میئر شہر کے مسائل سے ضرور واقف ہوں گے مگر شہری مسائل کے حل میں میونسپل اداروں کا کردار کم ہی نظر آتا ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے، وہ گزشتہ کئی سالوں سے اس صوبے اور کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی ذمے دار ہے مگر اس کی دلچسپی خاص طور پر کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں کم ہی نظر آتی ہے۔ کراچی کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے ایک سابق وفاقی وزیر جو اسی شہر کراچی کے رہائشی بھی ہیں، کراچی کو ایک جنگ زدہ شہر سے زیادہ خراب حالت کا شکار قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سال سے یونیورسٹی روڈ پر میٹروبس کا تعمیراتی کام لیت و لال سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے بعد اب مزید طول کھینچتا جا رہا ہے جو نہ جانے کتنے سال اور لے لے گا ۔ تعلیمی اداروں کی حالت زار سے لے کر صحت کے شعبے کی کارکردگی بھی عوامی ضروریات کے مطابق نہیں ہے۔ چوریاں، ڈکیتیاں روز کا معمول ہیں جن میں جانوں کا بھی زیاں ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایک برطانوی جریدے ’’دی اکنامسٹ‘‘ نے دنیا کے 173 شہروں کے تعلیم،صحت اور دیگر شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کراچی کو شہری سہولیات کے حساب سے 170 ویں نمبرپر رکھا گیا ہے جو ترقی کرتے ہوئے پاکستان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ اس شہر کی انتظامیہ اور حکومت سندھ کے لیے بھی ایک بری خبر ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایم کیو ایم اوردیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کراچی کی حالت زار پر نہ صرف تشویش کا اظہار کرنا اور اس کا ذمے دار حکومت سندھ کو قرار دینا درست ہی ہے۔ سندھ حکومت اپنی ذمے داری کا احساس کب کرے گی؟ آج کے کراچی کی جو حالت زار ہے، اس کے مقابلے میں ماضی میں یہ شہر کیا تھا، اس کی عظمت کا پورے برصغیر میں چرچا تھا۔ یہ شہر صفائی ستھرائی کے لحاظ سے پورے ہندوستان میں نمبر ایک قرار دیا جاتا تھا۔ کراچی کے ایک پرانے اخبار ’’ڈیلی گزٹ‘‘ کے مطابق 1933 میں کراچی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں اس وقت کے کراچی میونسپلٹی کے ایک کونسلر سرمنٹنگ ویب نے اس شہر کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’’یہاں صاف پانی بہ افراط دستیاب ہے، خالص اچھی خوراک میسر ہے۔ تفریح کے لیے وسیع و عریض میدان، کشادہ صاف ستھری سڑکیں موجودہیں۔ اس حسین شہر کی صفائی ستھرائی کا جواب نہیں ہے۔ اس کا امن اور نفاست قابل رشک ہے۔ چنانچہ مستقبل میں اس شہر کا غیرمعمولی ترقی کرنا امر یقینی ہے۔‘‘ ان کی پیش گوئی کے مطابق اس شہر نے بے شک حیرت انگیز ترقی کی، مگر اس وقت اسے جمشید نسروانجی جیسا مخلص اور محنتی میئر میسر تھا۔ کاش کہ موجودہ میئر کراچی بھی انھی کے نقش قدم پر چل سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل