Saturday, July 18, 2026
 

جنگ پھر سے

 



ایران اور امریکا کی جنگ دوبارہ سے شروع ہوچکی ہے اور اس جنگ کا پس منظر ہے آبنائے ہرمز، جس نے خلیج، مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے تحفظ اور سلامتی کے فریم ورک کو ایک نئے دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ تضاد دو بنیادی حقیقتوں سے جنم لیتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کو اس وقت کے فاتح اتحادیوں نے شکست دی اور توڑ ڈالاجس سے متعدد نئے ممالک وجود میں آئے جیسا کہ خلیجی ممالک۔ پھر بیسویں صدی کے اوائلی ادوار میں ان خلیجی ممالک بشمول ایران میں تیل کا دریافت ہونا جو صنعتی دور میں انرجی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ پھر دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد تمام اتحادیوں نے سوائے سوویت یونین کے اس بات کی ضرورت کو محسوس کیا کہ یورپ اور باقی ممالک میں تیل کی رسد کو یقینی بنانے کے لیے یہاں بیٹھک رائج کی جائے، اسرائیل کے وجود اور عرب ریاستوں میں اپنی پسندیدہ اور وفادار بادشاہت قائم کرنا جس میں ایران بھی ان کا اتحادی رہا۔ اس طرح سردجنگ کا آغاز ہوا جس کا خاتمہ1990 کی دہائی میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہوا۔ سردجنگ کے خاتمے سے پہلے 1979 میں امریکا کے سب سے بڑے اتحادی شہنشاہ ایران جلاوطن ہوئے اور ایران میں ایک بہت بڑے مذہبی انقلاب نے جنم لیا۔ افغانستان سے سوویت یونین کے اتحادیوں کا انخلاء ہوا ۔ 1990 کی دہائی میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوا۔ اس ٹوٹ پھوٹ سے کئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ روس جو کئی صدیوں سے ایک امپیریل طاقت رہا ہے، پیٹر دی گریٹ نے آس پاس کی کئی ریاستوں پر قبضہ جمایا تھا۔ روس بھی جرمنی کی طرح کالونیل ایمپائر تھا اور اسی طرح سلطنت عثمانیہ بھی۔ روس نے یوکرین کو آزادی تو دے دی مگرشرط یہ رکھی گئی تھی کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد عراق کو یہ اشارہ دے دیا گیا کہ وہ کویت پر قبضہ جمائے۔ اس جنگ میں امریکا نے مداخلت کی اور کویت کو عراق سے آزاد کروایا۔ اس وقت روس داخلی بحرانوں کا شکار تھا۔ چین کی معیشت اور دفاع برطانیہ سے بھی کم تر تھا۔ صدر بش سینئر کے زمانے میں امریکا دنیا کی واحد سپرطاقت بن کر ابھرا اور طاقت کا یہ توازن تب ٹوٹا جب 2014 میںروس نے یو کرین پر حملہ کر کے کریمیا پر قبضہ کر لیا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس میں جمہوریت مضبوط نہ ہو سکی۔ روس میں تیل اور گیس کے ذخائر اس کی معیشت کو طاقت فراہم کرتے ہیں، یہی سے گیس پائپ لائن کے ذریعے یورپ کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔ جب روس نے کریمیا پر قبضہ جمایا تو دنیا اسی طرح سے خاموش رہی، جب 1939 میں ہٹلر نے آسٹریا کو جرمنی کا حصہ بنایا اور دنیا نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا، یوں ہٹلر آگے بڑھتا رہا اور فرانس، پولینڈ اور یوگوسلاویہ وغیرہ جیسے ممالک پر قبضہ کیا۔ ہٹلر نے روس میں بھی قدم رکھا مگر اس کی مزاحمت کا سامنا نہ کر سکا۔ تیل کے ذخائر کی وجہ سے خلیجی ممالک امیر ضرور ہیں لیکن وہ مکمل ریاستوں کے پس منظر میں اب بھی پسماندہ ہیں۔ ان ریاستوں میں جمہوریت نہیں اور یہ ریاستیں دفاعی اعتبار سے بھی کمزور ہیں ۔ ہر خلیجی ملک میں امریکا کے دفاعی اڈے ہیں اور امریکا نے ان کو تحفظ فراہم کرنے کی گارنٹی دی ہوئی ہے۔ جیسے ہی روس کی معیشت سنبھلنے لگی، روس اپنی سپرطاقت ہونے کا دعویٰ دوبارہ کرنے لگا۔ اپنے سپرطاقت کا ٹائٹل دوبارہ کلیم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ جب یوکرین نے نیٹوکا حصہ بننے کی کوشش کی تو روس کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ نیٹو روس کی حدود تک پہنچنے لگا ہے۔ روس نے یوکرین پر جنگ مسلط کردی۔ مشرق وسطیٰ میں روس کے ساتھ ایران اور شام کے حکمران بشار الاسد تھے۔ ایران Proxy Nexus کرتا تھا۔ حوثی، حماس، حزب اللہ ۔ ایران کے موجودہ حکمران روس کے بڑے اتحا دی ہیں۔ یوکرین کی جنگ میں روس اپنا ہدف مکمل نہ کر پایا کیونکہ امریکا اور مغربی ممالک یو کرین کی مدد کرتے رہے۔ اسی جنگ کے زمانے میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کردیا لہٰذا مشرق وسطیٰ بڑی تیزی سے تضادات کی زد میں آگیا۔ روس، شام میں ہار گیا۔ بشار الاسد نے روس میں پناہ لی جس کی وجہ سے اسرائیل کا اعتماد دگنا ہوگیا۔ پاکستان سرد جنگ کے دور میں امریکا کا اتحادی رہا ہے۔ ادھر اسرائیل نے ہندوستا ن سے اسٹرٹیجک تعلقات استوار کرنا شروع کردیئے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معاشی اور دفاعی طاقت بن کر ابھر رہا تھا۔ ہندوستان سے تضادات کے پس منظر میں پاکستان، چین کو اپنا اسٹرٹیجک پارٹنر مانتا ہے۔چین، پاکستان کے ذریعے ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ لے کر شاہراہ قراقرم سے گوادر اور خلیج تک رسائی چاہتا تھا۔ چین کا یہ منصوبہ پاکستان کو اپنے مفاد میں بہتر نظر آیا ۔ پاکستان بیرونی قرضہ جات تلے دبا ایک ملک ہے، ہم نے ایران اور امریکا کی جنگ میں مصالحت کرانے کاکردار ادا کیا مگر ایران امریکا ایک بار پھر جنگ میں الجھے ہوئے ہیں ۔ کل تک امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہونے کے آثار نظر آ رہے تھے مگر آج اس معاہدے پر سوالیہ نشان ہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں نے حملہ کردیا ہے جو ایران کے اتحادی ہیں اور ہمارا دفاعی معاہدہ سعودی عرب سے ہے، اگر ایران ، سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے توہمارے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ہندوستان اور اسرائیل نے افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے۔ اتنا آسان نہیں کہ ان تمام بین الاقوامی حالات کو ایک جملے میں بیان کیا جاسکے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات ان کی تاریخ کے سیاہ پہلو ہیں۔ جب عراق پر جنگ مسلط کی گئی تو عراق کو بھی اندرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت ایران بھی داخلی تضادات کا شکار ہے، اگر ایران اس مزاحمت کا مضبوط جواب نہ دے سکا تو ایران کو بھی اندرونی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کے اندر روس اور چین کے اسٹرٹیجک مفادات ہیں جس کی وجہ سے روس آگے بڑھ کر ایران کی مدد کر رہا ہے۔ ایران اور امریکا کی جنگ جس کو مارکیٹ فورسز نے روک رکھا تھا، اب دوبارہ سے شروع ہو رہی ہے جس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں پوری دنیا پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ امریکا کے اندر بھی صدر ٹرمپ کو اس کے مخالفین نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ایران کی اسٹرٹیجی فطری نہیں۔ اس طرح تمام خلیجی ریاستیںبھی پھنس چکے ہیں، وہ تیل اور گیس کے ذخائر سے مالامال ہیں، بہترین معیشت ہے مگر ریاستوں کے ستون زمین میںگہرے نہیں ہیں۔ اب یہ تضادات دوبارہ کروٹ لے چکے ہیں، اس حوالے سے آنے والے ایک دو مہینے بہت حساس ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل