Saturday, July 18, 2026
 

ایک ریاست دو دنیائیں

 



ہمارے ملک میں دو پاکستان بستے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک قوم اور ایک پرچم لوگوں کو شناخت دیتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے سماج کی حقیقت اس سے کچھ الگ اور تلخ ہے، اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس سرزمین پر گویا دو پاکستان آباد ہیں۔ ایک وہ پاکستان جہاں آسائشیں، مواقع، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور خوشحالی کے دروازے کھلے ہیں اور دوسرا وہ پاکستان جہاں کروڑوں لوگ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے لیے روزانہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ تقسیم صرف دولت کی نہیں بلکہ مواقع، انصاف اور امید کی بھی ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کے لیے مہنگائی محض خبر کی ایک سرخی ہے۔ ان کے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ علاج کے لیے جدید اسپتال میسر ہیں، محفوظ رہائش اور ہر طرح کی سہولت ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ انھیں یہ فکر نہیں ہے کہ یہ آسائشیں انھیں کیسے میسر ہیں کیونکہ پیسہ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ کسی بھی قیمت پر یہ سب حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے بجلی، پانی، گیس، انٹرنیٹ اور دیگر بنیادی ضروریات معمول کی چیزیں ہیں، اگر ایک دروازہ بند ہو جائے تو کئی دوسرے دروازے ان کے لیے کھل جاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں کروڑوں خاندان ایسے ہیں جو ہر صبح اس فکر کے ساتھ جاگتے ہیں کہ آج کے کھانے کا انتظام کیسے ہوگا۔ ایسے والدین بھی ہیں جو اپنے بچوں کی فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے انھیں اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بے شمار مریض صرف اس لیے مناسب علاج سے محروم رہتے ہیں کہ ان کے پاس دوائی خریدنے یا اسپتال تک پہنچنے کے وسائل نہیں ہوتے، ان کے لیے زندگی ایک مسلسل آزمائش بن چکی ہے۔ یہ فرق صرف آمدنی تک محدود نہیں۔ ایک بچے کی پیدائش اس کے مستقبل کا تعین کر دیتی ہے، اگر وہ بچہ خوشحال گھرانے میں پیدا ہو تو اس کے لیے ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جب کہ غریب گھرانے کا بچہ اکثر محدود وسائل کے باعث اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتا حالانکہ ذہانت، محنت اور خواب کسی ایک طبقے کی میراث نہیں ہوتے۔  ہمارے شہروں میں یہ فرق واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ہی شہر میں بلند وبالا عمارتیں، جدید رہائشی منصوبے اور شاندار شاپنگ مال موجود ہیں جب کہ ان سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کچی آبادیاں، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، گندا پانی اور بنیادی سہولتوں سے محروم بستیاں آباد ہیں۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی رفتار سب کے لیے یکساں نہیں رہی۔ تعلیم اس فرق کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں بھی واضح تضاد موجود ہے۔ ایک طرف ایسے ادارے ہیں جہاں جدید سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ اور عالمی معیار کی تعلیم دستیاب ہے جب کہ دوسری طرف ایسے اسکول بھی ہیں جہاں بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔ جب آغاز ہی مختلف ہو تو منزل بھی مختلف ہو جاتی ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ خوشحال افراد نجی اسپتالوں سے بہترین علاج حاصل کر لیتے ہیں جب کہ عام آدمی اکثر سرکاری اسپتالوں کی طویل قطار، محدود وسائل اور اخراجات کے بوجھ سے دوچار رہتا ہے۔ بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی مگر علاج تک رسائی میں فرق ضرور نظر آتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سماج میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو خاموشی سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ فلاحی ادارے، مخیر حضرات، سماجی کارکن اور رضاکار ضرورت مندوں کے لیے امید کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔ ان کی خدمات قابل تحسین ہیں لیکن صرف خیرات اور فلاحی کام، سماجی مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتے۔ پائیدار بہتری کے لیے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو ہر شہری کو برابری کے مواقع فراہم کرے۔ دو پاکستانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معیاری تعلیم ہر بچے تک پہنچے، صحت کی سہولتیں سب کے لیے یکساں ہوں، روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے، قانون کی حکمرانی مضبوط ہو اور ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ اسی طرح ٹیکس کا شفاف نظام، دیانت دار طرز حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی بھی اس فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ ذمے داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ سماج کے ہر فرد کی ہے، اگر ہم اپنے رویوں میں انصاف، دیانت، برداشت اور احساسِ ذمے داری پیدا کریں، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق سماج کی بہتری میں حصہ ڈالیں تو مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ایک مضبوط قوم صرف مضبوط معیشت سے نہیں بلکہ بااعتماد تعلیم یافتہ اور بااختیار شہریوں سے بنتی ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس وقت زیادہ روشن ہوگا جب کسی بچے کے خواب اس کے گھر کی معاشی حیثیت کے محتاج نہ ہوں، جب محنت اور قابلیت کامیابی کا اصل معیار بنیں اور جب ہر شہری خود کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار محسوس کرے۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، جہاں بنیادی حقوق، انصاف، تعلیم، صحت اور عزتِ نفس میں کوئی تفریق نہ ہو۔ معاشی اور سماجی تقسیم کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب ایک طبقہ تمام سہولتوں سے آراستہ ہو اور دوسرا طبقہ بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہو تو احساس محرومی جنم لیتا ہے۔ یہی احساس وقت کے ساتھ ساتھ بے چینی، مایوسی اور بداعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں شہری خود کو برابر کا حصہ دار محسوس نہ کریں، وہاں قومی یکجہتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ترقی کا سفر اسی وقت پائیدار ہو سکتا ہے جب اس کا ثمر ہر طبقے تک پہنچے۔ دیہی اور شہری پاکستان کے درمیان فرق بھی اسی تقسیم کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بڑے شہروں میں جدید تعلیمی ادارے، بہتر اسپتال، صنعتی مراکز اور روزگار کے زیادہ مواقع موجود ہیں جب کہ دیہی علاقوں میں آج بھی بنیادی صحت، معیاری تعلیم، صاف پانی اور مناسب سڑکوں جیسی سہولتیں ناکافی ہیں۔ اس عدم توازن کی وجہ سے دیہات کے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں شہروں کا رخ کرتے ہیں جس سے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھتا ہے اور نئے سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس تقسیم کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں لیکن جب انھیں معیاری تعلیم، ہنر سیکھنے کے مواقع اور باعزت روزگار میسر نہ آئے تو ان کی صلاحیتیں ضایع ہونے لگتی ہیں۔ مایوسی، بے روزگاری اور وسائل کی کمی ان کے اعتماد کو کمزور کر دیتی ہے، اگر ان نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، جدید تعلیم اور مساوی مواقع حاصل ہوں تو یہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ انصاف پر مبنی ترقی ہے۔ ایسی ترقی جس میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو ہر شہری کو آگے بڑھنے کا یکساں موقع ملے اور ریاست کی پالیسیاں کمزور طبقات کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ جب ایک مزدور، کسان، استاد، طالب علم اور کاروباری شخص سب خود کو یکساں اہم محسوس کریں گے تو ہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب یہ تقسیم کم ہوتی جائے، مواقع سب کے لیے یکساں ہوں اور ہر پاکستانی یہ محسوس کرے کہ یہ ملک صرف چند لوگوں کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، خوشحال اور منصفانہ پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل