Thursday, July 30, 2026
 

اسلحہ ذخائر میں کمی کی خبر درست نکلی، امریکا نے پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری کا آرڈر دے دیا

 



ایران سے جنگ کے دوران متعدد بین الاقوامی میڈیا نے امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی کی خبریں دی تھیں جس کی صدر ٹرمپ اور امریکی حکام نے تردید کی تھی مگر اسلحہ ساز کمپنی کو اربوں ڈالر کے میزائلوں کی تیاری کے آرڈر نے اس خبر کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے معروف اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کے لیے 58.6 ارب ڈالر تک کا معاہدہ دیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ پہلے سے موجود 4.7 ارب ڈالر کے ایک سالہ معاہدے کو سات سالہ منصوبے میں تبدیل کرتا ہے جس کے تحت مالی سال 2026 سے 2032 تک پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کیے جائیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث امریکا کے اہم دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکا نے اتحادی ممالک کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے جبکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران بھی بڑی تعداد میں گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق نئے فنڈز کے ذریعے 2030 تک پی اے سی تھری ایم ایس ای میزائلوں کی پیداواری صلاحیت تین گنا بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی آرکنساس پلانٹ میں ملازمتوں میں بھی 50 فیصد اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن 2030 تک اپنی 20 سے زائد امریکی تنصیبات کو جدید بنانے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں الاباما اور آرکنساس میں نئے میزائل مراکز بھی شامل ہیں۔ پی اے سی تھری ایم ایس ای پیٹریاٹ دفاعی نظام کا جدید میزائل ہے جو بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل