Tuesday, August 04, 2026
 

سنی دیول نے پاکستان کے ساتھ اپنا خاص رشتہ بتادیا، بیان وائرل

 



بالی ووڈ کے معروف اداکار سنی دیول نے پاکستان سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا ہے جس پر سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اداکار نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی اور جذباتی تعلق موجود ہے۔ سنی دیول، جو کئی دہائیوں سے بھارتی فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں، اپنی مشہور فلموں ’گھائل‘، ’دامنی‘، ’بارڈر‘ اور ’غدر: ایک پریم کتھا‘ کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ ان فلموں میں ان کے کردار اکثر شدت پسند جذبات اور حب الوطنی کے رنگ لیے ہوئے نظر آئے، تاہم حقیقی زندگی میں وہ پاکستانی مداحوں کے ساتھ ہمیشہ احترام اور خوشگوار تعلقات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں سنی دیول اپنی نئی تاریخی فلم ’بٹوارا (1947)‘ کی تشہیر میں مصروف ہیں، جس میں مبینہ طور پر 1947 کی پاک بھارت تقسیم کے تاریخی واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ فلم 14 اگست 2026 کو عالمی سطح پر ریلیز کی جائے گی، تاہم پاکستان میں اس کی نمائش نہیں ہوگی۔ فلم کی تشہیری تقریب کے دوران ایک صحافی نے سنی دیول سے سوال کیا کہ کیا فلم کی شوٹنگ پاکستان میں ہوئی؟ اور وہ پاکستان، وہاں کے ماحول اور عوام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اداکار نے کہا کہ فلم کی شوٹنگ پاکستان میں نہیں بلکہ مکمل طور پر بھارت میں ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے والد کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر بھارت میری ماں ہے تو پاکستان میری ماں کی بہن (ماسی) ہے، اس لیے ہم کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘         View this post on Instagram                       سنی دیول کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل ملا۔ کئی افراد نے ان کے اندازِ گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک سنجیدہ اور متوازن جواب دیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے پہلی بار اس معاملے پر مثبت بات کی ہے۔ تاہم کچھ لوگوں نے سوال بھی اٹھایا کہ اگر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات اچھے ہو سکتے ہیں تو پھر وہ ایسی فلموں میں کیوں نظر آتے ہیں جن میں پاکستان مخالف جذبات دکھائے جاتے ہیں۔ بعض صارفین نے ان کے بیان پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ سنی دیول کا یہ بیان ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر گیا ہے کہ فن، سیاست اور تاریخی معاملات کے درمیان تعلقات کو کس طرح دیکھا جانا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل