Tuesday, August 11, 2026
 

ٹرمپ نئی مشکل میں پھنس گئے؛ بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقدمہ دائر کردیا

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف چار امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں میں ہیومن رائٹس واچ، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی، سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ 101 صفحات پر مشتمل درخواست میں تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حکومت کا آئی سی سی کے ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالت سے تعاون کرنے والے دیگر افراد و اداروں کو نشانہ بنانا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیِ اظہار کی ضمانت سمیت دیگر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں نہ صرف بنیادی آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہیں بلکہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہیں۔   درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے آئی سی سی اور اس سے وابستہ افراد کے ساتھ قانونی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اقدامات کا اثر بالخصوص ان متاثرین پر پڑ رہا ہے جو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکی حکومت نے بعد کے اقدامات میں آئی سی سی کے آٹھ ججوں، تین پراسیکیوٹرز، اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ماہر اور تین انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا۔  جون 2025 میں امریکا نے آئی سی سی کے چار ججوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ بعد میں مزید ججوں اور عدالت سے منسلک افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا۔  اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکی ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 فروری 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت آئی سی سی کے ایسے حکام اور دیگر افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیا گیا جو امریکی شہریوں یا امریکا کے اتحادیوں کے خلاف عدالت کی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہوں۔ صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کے تحت عائد ان پابندیوں میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ججز اور دیگر افراد کے اثاثے منجمد کرنا، مالی پابندیاں اور امریکا میں داخلے پر پابندیاں شامل ہیں۔  ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ آئی سی سی کو امریکی شہریوں یا ایسے ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں جنہوں نے عدالت کے دائرۂ اختیار کو قبول نہیں کیا۔ امریکا خاص طور پر عدالت کی جانب سے امریکی اہلکاروں اور اسرائیلی حکام سے متعلق تحقیقات اور کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ آئی سی سی نے غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات کے دوران اسرائیلی حکام کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ یہ پابندیاں تب عائد کی گئیں جب عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اسرائیل نے عالمی عدالت کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا جبکہ امریکا نے آئی سی سی کے اس اقدام کو اپنے اتحادی کے خلاف غیر قانونی اور سیاسی کارروائی قرار دیا تھا۔  بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کے حکام اور عدالت کے ساتھ تعاون کرنے والے دیگر افراد و اداروں پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا تھا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل