Loading
مشہور کے پاپ گروپ کی 26 سالہ جاپانی مداح اور سوشل میڈیا انفلوئنسر مینا چن نے آن لائن ہراسانی کےبعد لائیو اسٹریمنگ کے دوران خودکشی کرلی۔
میناچن کی موت نے کے پاپ فین کلچر اور آن لائن ہراسانی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جنوبی کوریا میں مقیم مینا چن ٹک ٹاک پر 80 ہزار سے زائد فالوورز رکھتی تھیں، جنھوں نے لائیو اسٹریمنگ کے دوران مبینہ طور پر خود کی جان لے لی۔
’کوریا ہیرالڈ‘ کے مطابق واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جب مینا چن اپنے گھر سے ٹک ٹاک پر لائیو تھیں۔ یانگسان پولیس اسٹیشن کو ان کے ایک جاننے والے کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور صبح تقریباً 5 بج کر 33 منٹ پر انہیں مردہ پایا۔ لائیو براڈکاسٹ کے دوران متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی حکام سے فوری مدد کی اپیل کی تھی۔
مینا چن کی موت کی تصدیق ان کی چھوٹی بہن نے اگلے روز انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کی۔ انہوں نے جذباتی پیغام میں اپنی بہن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیاری بڑی بہن، جو ہر ملنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مہربان اور محبت سے پیش آتی تھیں، اب دنیا میں نہیں رہیں۔ انہوں نے مداحوں سے اپنی بہن کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست بھی کی۔
مینا چن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ENHYPEN کی نمایاں مداح تھیں اور کے پاپ گروپ کے فین ایونٹس اور شوز میں باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کے باعث انہوں نے بڑی تعداد میں فالوورز حاصل کیے تھے، تاہم موت سے قبل وہ ENHYPEN کے مداحوں کی جانب سے شدید تنقید اور مبینہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کر رہی تھیں۔
اس تنقید کا آغاز گزشتہ ماہ امریکا میں ENHYPEN کے ایک شو کے دوران پیش آنے والے واقعے سے ہوا۔ مینا چن نے گروپ کے رکن سنو کے ذریعے جاپانی گلوکار نی کی کو پھول پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ بعض مداحوں نے ان کے اس اقدام کو فنکاروں کی ذاتی حدود سے تجاوز قرار دیا اور سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
واقعے کے بعد مینا چن نے 31 جولائی کو ایکس پر تفصیلی وضاحت اور معذرت بھی جاری کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شاید ان کے رویے سے سنو کی مہربانی کا فائدہ اٹھایا گیا اور اس پر انہوں نے سنو اور ان کے مداحوں سے معافی مانگی۔ مینا چن نے یہ بھی لکھا کہ ENHYPEN کے متعدد فین سائن ایونٹس میں شرکت کے باعث وہ خود کو حقیقت سے زیادہ گروپ کے اراکین کے قریب سمجھنے لگی تھیں۔
اپنی وضاحت میں انہوں نے امریکا میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی خواہش کو ترجیح دے کر نی کی کے لیے موجود قیمتی وقت اور تقریب کے ماحول کو متاثر کیا۔ انہوں نے اپنے رویے کو ’بدتمیزی‘ قرار دیتے ہوئے اس پر بھی معذرت کی۔
تاہم معذرت کے باوجود مینا چن کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر نفرت انگیز پیغامات اور تنقید کا سامنا جاری رہا۔ ان کی موت کے بعد ان کی آخری انسٹاگرام پوسٹس پر بعض مداحوں نے تعزیتی پیغامات بھی شیئر کیے، جبکہ کچھ صارفین نے فین کمیونٹی میں آن لائن ہراسانی کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے مینا چن کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ فین کمیونٹی میں نفرت، ہراسانی اور الزام تراشی کی شدت انتہائی افسوسناک ہے۔ صارف نے مینا کو ’نرم دل اور مہربان لڑکی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو نقصان پہنچانے والے افراد کو حقیقی مداح کہنا بھی درست نہیں، کیونکہ فنکار خود بھی ایسے رویے کی حمایت نہیں کرتے۔
اگرچہ مینا چن کی موت کے بعد آن لائن ہراسانی کو واقعے کے اہم پہلو کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے، تاہم جنوبی کوریا کی پولیس نے تاحال ان کی موت کی حتمی وجہ کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل