Tuesday, August 11, 2026
 

قطر میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

 



قطر کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق مذاکرات ایڈوانس مرحلے میں پہنچ گئے ہیں. عرب میڈیا کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ہم خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ قطر کی خواہش ہے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جائے اور تجارتی جہازوں کی معمول کی آمدورفت بحال ہو۔ قطر اس معاملے میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ قبل ازیں پاکستانی وزیر دفاع بھی امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ قطر نے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ خیال رہے کہ ایران اور عمان کے درمیان بنیادی مذاکرات آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستے اور مستقبل کے انتظامات پر مرکوز ہیں۔ رائٹرز کے بقول ایران نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کرلیا اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ تاہم ایران نے ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان کسی انتظام پر اتفاق ہوجانا بذاتِ خود آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی ضمانت نہیں ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل کے قریب ہے لیکن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کے دیگر مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔ ان مطالبات میں امریکی پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے متعلق معاوضے سمیت دیگر امور شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران کے دورے پر تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل