Saturday, August 15, 2026
 

حیدرآباد: شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلا کر مبینہ قید میں رکھی گئی انڈونیشین خاتون بازیاب

 



حیدرآباد: شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلانے اور مبینہ طور پر قید رکھنے کا معاملہ، انڈونیشین خاتون اندا مرلین نے محکمہ ترقی نسواں کے حکام کو پیغام کے ذریعے شکایت کی تھی۔ خاتون کے مطابق شوہر نے اسے گھر میں حبسِ بے جا میں رکھا اور پاسپورٹ سمیت دیگر قانونی دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔ شکایت پر محکمہ ترقی نسواں کے شکایتی سیل کی انچارج نسرین پلیجو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس سے رابطہ کیا۔ نسرین پلیجو کی جانب سے نسیم نگر تھانے کو خاتون کی بازیابی کے لیے درخواست دی گئی، تاہم نسیم نگر پولیس نے خاتون کی مبینہ موجودگی سے متعلق درخواست پر کارروائی نہ ہونے کا تحریری جواب دیا۔ معاملہ حل نہ ہونے پر نسرین پلیجو نے عدالت سے رجوع کیا، عدالت کے حکم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قاسم آباد کے علاقے گل لطیف سوسائٹی میں مکان پر چھاپہ مار کر انڈونیشین خاتون کو بازیاب کرالیا۔ تھانہ وومن پولیس نے خاتون کو عدالت میں پیش کردیا۔ نسرین پلیجو کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، خواتین کو ہراساں کرنا یا حبسِ بے جا میں رکھنا بڑا جرم ہے۔ خواتین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے محکمہ ترقی نسواں ہر وقت اقدامات کے لیے موجود ہے، ایسے معاملات میں پولیس افسران کو محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنانا ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل