Sunday, August 16, 2026
 

سبزہ، صاف ماحول، فطرت سے تعلق ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے، ماہر ماحولیات

 



ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ آج کے تیز رفتار شہری ماحول میں مہنگائی، روزگار، گھریلو مسائل، سماجی دباؤ اور مسلسل مصروفیات کے باعث بہت سے لوگ ذہنی تناؤ، بے چینی اور اضطراب کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے ماحول میں ذہنی سکون کے لیے بڑے اور مشکل حل تلاش کرنے کے بجائے روزمرہ زندگی میں فطرت اور سبزے سے تعلق پیدا کرنا ایک سادہ اور مثبت طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہر ماحولیات اور ویسٹ مینجمنٹ ایکسپرٹ طارق علی نظامانی کے مطابق شہری زندگی میں شجرکاری، پودوں کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی جیسی سرگرمیاں انسان کو نہ صرف اپنے ماحول سے جوڑتی ہیں بلکہ اسے ذہنی طور پر تازگی اور سکون بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انسان اپنے اردگرد سبزہ دیکھتا ہے، پودے لگاتا ہے اور ان کی دیکھ بھال میں وقت گزارتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے روزمرہ کی پریشانیوں سے خود کو دور کر لیتا ہے، صاف ماحول، سبزہ اور فطرت سے تعلق انسان کے احساسات کو تازگی دیتے ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر شخص اگر اپنے گھر، گلی، محلے یا دفتر کے آس پاس تھوڑی سی جگہ کو سبز بنانے کی کوشش کرے تو اس کا فائدہ صرف ماحول کو نہیں بلکہ شہریوں کی مجموعی ذہنی کیفیت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ طارق علی نظامانی کے مطابق کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، صفائی کا خیال رکھنا، پودے لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بظاہر چھوٹی سرگرمیاں ہیں لیکن یہی سرگرمیاں انسان کو مثبت اور تعمیری مصروفیت فراہم کرتی ہیں۔ ماہر ماحولیات طارق علی نظامانی کا ماننا ہے کہ ماحول کو صرف صفائی یا خوبصورتی کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے، صاف اور سرسبز ماحول دراصل انسان کے سکون، مثبت احساسات اور بہتر طرز زندگی کا بھی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے شہر کو سبز اور صاف رکھنے میں روزانہ تھوڑا سا وقت دیں تو یہ وقت ہمارے اپنے ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے، ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی صورت میں پیشہ ورانہ طبی یا نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم فطرت کے قریب وقت گزارنا، جسمانی سرگرمی اور مثبت مصروفیات مجموعی ذہنی صحت کے لیے معاون عادات کا حصہ بن سکتی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل