Sunday, August 23, 2026
 

بڑا رقبہ یا زیادہ آبادی بُری حکمرانی کی وجہ نہیں، اصل مسئلہ استعداد کار کا ہے

 



پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں یا انتظامی تقسیم کا ذکر ہوتا ہے تو بحث بہت جلد سیاست، زبان، نسل، علاقائی شناخت اور اقتدار کی تقسیم میں الجھ جاتی ہے۔ کوئی جنوبی پنجاب کی بات کرتا ہے، کوئی بہاولپور کی، کوئی ہزارہ کی اور کہیں کراچی کو الگ انتظامی حیثیت دینے کی آواز اٹھتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک بنیادی قومی سوال سیاسی نعروں کے شور میں دب جاتا ہے کیا پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی، تیزی سے پھیلتے شہروں، پیچیدہ معیشت، امن و امان، موسمیاتی تبدیلی اور اکیسویں صدی کے تقاضوں کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ اصل بحث نئے صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ حکمرانی کی استعداد ہونی چاہیے۔ پاکستان چار صوبوں، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا، پر مشتمل وفاق ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے الگ انتظامی و آئینی انتظامات ہیں۔ موجودہ صوبائی نقشے کی بنیادی صورت آٹھ دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سامنے آئی تھی۔ اس دوران پاکستان کی آبادی، شہری پھیلاؤ، معاشی سرگرمیوں، مواصلات اور عوامی ضروریات میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن بنیادی انتظامی اکائیوں کا حجم بڑی حد تک وہی ہے۔ یہی تضاد ہمارے سامنے ایک اہم سوال رکھتا ہے۔ جب آبادی اور مسائل مسلسل بڑھ رہے ہوں تو کیا انتظامی صلاحیت بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے ؟  رقبہ یا آبادی بذاتِ خود اچھی یا بری حکمرانی کا معیار نہیں۔ دنیا میں بڑے انتظامی یونٹس بھی کامیابی سے چلتے ہیں اور چھوٹے یونٹس بھی ناکام ہو سکتے ہیں۔ اصل فرق اداروں کی استعداد، مالی خودمختاری، احتساب، ٹیکنالوجی اور مقامی اختیار سے پڑتا ہے۔ تاہم جب ایک انتظامی اکائی اس قدر وسیع ہو جائے کہ فیصلہ ساز اور شہری کے درمیان عملی رابطہ کم ہونے لگے تو ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے " انتظامی فاصلہ " کہا جا سکتا ہے۔ ایک فائل کو فیصلہ ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ ایک دور افتادہ ضلع کی ضرورت صوبائی بجٹ میں کتنی جلد جگہ بناتی ہے؟ ایک شہری اعلیٰ انتظامیہ تک کتنی آسانی سے پہنچ سکتا ہے؟ ایک سکول میں استاد کی کمی دور ہونے، ہسپتال میں ڈاکٹر تعینات ہونے یا کسی سڑک کی منظوری میں کتنا وقت لگتا ہے؟ یہ سب انتظامی فاصلے کے پیمانے ہیں۔ حکومت جتنی شہری سے دور ہوگی، فیصلہ سازی کی زنجیر اتنی ہی طویل ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس میں حکومت، وسائل، احتساب اور فیصلہ نسبتاً عوام کے قریب آ سکتے ہیں۔ اسے قربِ حکمرانی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا انتظامی نظام ایک ایسی آبادی کو سنبھال رہا ہے جو گزشتہ چند دہائیوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دیہات قصبوں میں، قصبے شہروں میں اور شہر بڑے شہری مراکز اور میٹرو پولیٹن سٹیز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، ملتان، کوئٹہ اور دوسرے بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ سکول، زیادہ ہسپتال، زیادہ پولیس، زیادہ عدالتیں، زیادہ پانی، زیادہ ٹرانسپورٹ، زیادہ روزگار اور زیادہ شہری منصوبہ بندی ہے۔ اگر انتظامی صلاحیت اسی رفتار سے نہ بڑھے تو آبادی کا دباؤ رفتہ رفتہ گورننس کے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کی ضروریات یکساں نہیں۔ بلوچستان کے کم آبادی مگر وسیع رقبے والے ضلع اور لاہور یا کراچی کے گنجان شہری علاقے کو ایک ہی انتظامی پیمانے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسی طرح جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، سابق قبائلی اضلاع اور شمالی پہاڑی علاقوں کی تعلیمی اور طبی ضروریات بھی مختلف ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس مقامی اعداد و شمار اور ضروریات کی بنیاد پر تعلیم اور صحت کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ جب فیصلے مقامی حقائق سے مناسبت رکھتے ہوں تو محدود وسائل بھی زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ سیکیورٹی کے مسائل پاکستان کے موجودہ سکیورٹی چیلنجز بھی انتظامی اصلاحات کو محض ترقیاتی مسئلہ نہیں رہنے دیتے۔ دہشت گردی، منظم جرائم، اسمگلنگ، فرقہ وارانہ کشیدگی، شہری جرائم اور سرحدی علاقوں کے مخصوص مسائل مختلف نوعیت کے ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ بہت بڑے انتظامی دائرے میں پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران پر نگرانی کا بوجھ بڑھتا ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس میں کمانڈ، نگرانی، مقامی انٹیلی جنس اور ادارہ جاتی رابطہ زیادہ مربوط بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ہوگا: صرف نئے آئی جی، چیف سیکرٹری یا دفاتر بنا دینا اصلاح نہیں۔ اصل مقصد کمانڈ کے دائرے کو قابلِ انتظام، جواب دہ اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔  منفی موسمی تغیرات، نیا انتظامی چیلنج  پاکستان کے انتظامی مستقبل پر بحث کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت، گلیشیئرز سے متعلق خطرات، ساحلی کٹاؤ اور زرعی پیداوار میں تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسائل نہیں بلکہ گورننس کے مسائل بھی ہیں۔ ایک ساحلی خطے کی ترجیحات پہاڑی علاقے سے مختلف ہوں گی۔ دریائی علاقوں کو سیلابی انتظام، خشک علاقوں کو پانی کے تحفظ اور بڑے شہروں کو ہیٹ ویو، نکاسی آب اور فضائی آلودگی کے لیے الگ حکمت عملی درکار ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس اگر مالی اور تکنیکی طور پر مضبوط ہوں تو وہ مقامی موسمیاتی حکمت عملی زیادہ مؤثر انداز میں تشکیل دے سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل