Loading
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وردی میں موجود شخص پر حملہ اور وردی پر ہاتھ ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے، یونیفارم پہننے والے شخص کا بھی خاندان اور عزتِ نفس ہوتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا منصوبہ آخری لمحے میں تبدیل کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر کوششیں بانی کی صحت اور علاج کے حوالے سے تھیں۔
راولپنڈی میں داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ سرحد یونیورسٹی کے واقعے کے مناظر دیکھ کر انہیں دلی افسوس ہوا، کسی وردی والے شخص پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بانی کو اسپتال منتقل کرنے کا پلان آخری لمحے میں تبدیل کیا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو معاملات کافی آگے بڑھ چکے تھے۔ بانی کا شفا اسپتال میں علاج ہوجاتا تو بہت اچھا ہوتا، تاہم وہ مایوس نہیں اور دوبارہ کوشش کریں گے، رابطے ختم نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والی تمام بات چیت صرف بانی کی صحت کے حوالے سے تھی، اعظم نذیر تارڑ بھی رابطوں اور بات چیت کی تصدیق کرچکے ہیں۔ بانی کی صحت پر سیاست اور بیان بازی نہیں ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق حکومت نے کبھی نہیں بتایا کہ شفا اسپتال منتقلی کے حوالے سے سکیورٹی خدشات ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے کور اور سیاسی کمیٹی کے اعلامیے کے ذریعے کارکنوں کو واضح کردیا تھا کہ کوئی شفا اسپتال نہ جائے۔ بانی کو شفا کے بجائے پمز لے جایا گیا لیکن وہاں بھی وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر آج بھی عمل ہوسکتا ہے، ان کی درخواست پر نمبر لگ چکا ہے اور جلد سماعت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے ہے اور یہ سول توہین عدالت کا معاملہ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی سے اپنی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی سی سی ٹی وی کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ منگل کی ملاقات کے بعد نورین نیازی خوش تھیں، ان کے لیے بانی کی صحت اور سکیورٹی دونوں اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے، متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گی، عوامی مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ حکومت کا احتساب کیا جائے گا، جبکہ عدلیہ، الیکشن کمیشن اور صوبائی معاملات میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل