Tuesday, August 25, 2026
 

ایک آدمی کو اتنے اختیارات دے دیے گئے کہ وہ وزیراعظم اور صدر کے فیصلے کرے گا، اقبال آفریدی

 



قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ آج پرائیویٹ ممبر ڈے ہے، یہ طے ہوا ہے کہ کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں آئے گی اور آج صرف نقطہ اعتراض پر بات ہوگی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اقبال آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود شفا کی بجائے پمز لایا گیا۔ خدا کا خوف کریں، سپریم کورٹ کی بات مانیں، آپ اس پارلیمنٹ کو سپریم بنائیں۔ اقبال آفریدی نے کہا کہ ایک آدمی کو اتنے اختیارات دے دیے گئے کہ وہ وزیراعظم اور صدر کے فیصلے کرے گا۔ اسلام آباد کے میڈیکل کالجز اور نجی ہسپتالوں میں زیادہ فیسز سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس اسلام آباد کے میڈیکل کالجز اور نجی ہسپتالوں میں زیادہ فیسز سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی تھی، جس نے فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کالجز نے اعتراض کیا کہ فیس 25 لاکھ روپے کی جائے۔ 61 میڈیکل کالجز نے اپنے ڈاکومنٹس جمع کروائے، جس کے بعد کمیٹی نے 35 کالجز کی اپیل کو درست قرار دیا اور ان کالجز کی فیس 21 لاکھ روپے مقرر کردی۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ والدین کی شکایات پر 45 کالجز کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا میڈیکل کالجز کی فیسز پر اظہار خیال قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم ہر سال 22 ہزار ڈاکٹرز بناتے ہیں، جن میں 65 فیصد حصہ پرائیویٹ کالجز کا ہے۔ 96 ہزار بچوں نے ایم ڈی کیٹ کا ٹیسٹ پاس کیا، لیکن ہم صرف 22 ہزار بچوں کو داخلہ دے سکے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے ہزاروں بچے باہر جاتے ہیں لیکن وہاں تعلیمی معیار بہتر نہیں، ہمارے ڈاکٹرز باہر جاکر پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم نے میڈیکل کالجز کی فیسز سے متعلق کمیٹی بنائی۔ اس وقت ایک بھی کالج اپنی مرضی سے فیس مقرر نہیں کرسکتا۔ 188 کالجز میں صرف 38 کالجز کو 18 لاکھ روپے سے زائد فیس لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ علی محمد خان کا گستاخی سے متعلق بل پر رولنگ دینے کا مطالبہ، ارکان میں گرما گرمی قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ سال 2023 میں گستاخی سے متعلق ایک بل منظور ہوا، جس کے بعد سینیٹ نے بھی بل منظور کیا۔ صدر نے بل نہ منظور کیا نہ واپس کیا۔ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے رولنگ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس وقت عارف علوی صدر تھے، تاہم ابھی چیک کرلیتے ہیں۔ اجلاس میں آغا رفیع اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وزیر صوبوں کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔ حفیظ الدین کی آغا رفیع اللہ کی بات میں مداخلت پر دونوں کے درمیان گرما گرمی ہوگئی۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ان کو کون ٹھیک کرے گا، کراچی کا بھی بیڑا غرق کردیا۔ حفیظ الدین نے کہا کہ آپ تمیز سے بات کریں۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ آپ میری بات میں مداخلت کیوں کر رہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ آپ ابھی بیٹھیں، بعد میں موقع دیتا ہوں، بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس جمعہ صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل