Loading
پاکستان میں توانائی کے تحفظ کے عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں حکومت نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی فزیبلٹی اسٹڈی کا آغاز کر دیا اور عالمی مشاورتی ادارے نے اسٹڈی کا ٹینڈر بھی حاصل کرلیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اسلام آباد میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی فزیبلٹی اسٹڈی کے آغاز سے متعلق اجلاس ہوا، حکومت نے مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے عالمی مشاورتی ادارے ووڈ میک کینزی کا انتخاب کیا، جس نے فزیبلٹی اسٹڈی کا ٹینڈر حاصل کیا جبکہ اس منصوبے کے لیے چار بولیاں موصول ہوئی تھیں۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی کے تحفظ کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، آبنائے ہرمز کے حالیہ بحران نے تیل کی فراہمی میں ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے ملکی ذخائر اور توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کر دی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کی فزیبلٹی اسٹڈی پاکستان کی ضروریات کے مطابق عملی اور قابل عمل حل تجویز کرے گی، فزیبلٹی اسٹڈی میں اسٹریٹجک ذخائر کے لیے موجودہ بنیادی ڈھانچے، ترسیل و رسد، مالی وسائل، قانونی اور ضابطہ جاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی پہلے ہی بڑی عالمی تیل کمپنیوں کے لیے عالمی معیار کی بانڈڈ ذخیرہ اندوزی اسکیم کی منظوری دے چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں اور فریقوں کو ووڈ میک کینزی کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت بھی کی جبکہ فزیبلٹی اسٹڈی کی پیش رفت کے باقاعدہ جائزے کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل