Loading
قومی اسمبلی کی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان نے پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ گزشتہ روز کے واقعے کے تناظر میں پمز آئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی مہیش کمار نے کہا کہ کل جو واقعہ ہوا، اس سے ہولناک اور کیا ہوسکتا ہے۔ آج اسمبلی میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ بھی کال کریں گے۔
مہیش کمار نے کہا کہ یہ کہا گیا کہ اے سی سے آگ بھڑکی، ہم نے خود آج جگہ کا جائزہ لیا ہے، سورس آف فائر کا کسی کو پتا نہیں۔ نرسز کا کہنا ہے کہ وہ کام میں مصروف تھیں۔ سی سی ٹی وی کے بارے میں پوچھا تو ای ڈی صاحب کی جانب سے بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی میں واضح نہیں۔ ہمارے خیال میں نرسری یہاں ہونی نہیں چاہیے تھی، ہم دیکھیں گے کہ کمیٹی میرٹ پر کام کرتی ہے یا نہیں۔
ممبر کمیٹی گل اصغر نے کہا کہ ہم نے پوچھا کہ فائر سیفٹی ڈرل کب کروائی گئی، 30 سال میں الیکٹریسٹی کے حوالے سے کتنے آڈٹ ہوئے اور فائر الارم کے حوالے سے بھی سوال کیا ہے۔
ممبر کمیٹی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ مہیش کمار نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ٹیکنیکل فالٹ آیا یا نااہلی تھی، ہم فیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیں گے۔ نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں کیا سیفٹی اقدامات تھے، یہ دیکھنا ضروری ہے۔
ممبر کمیٹی و رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے بھی وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ عالیہ کامران نے کہا کہ سیکریٹری صحت کو گھر بھیجا گیا، رنگ روڈ طرز پر دوبارہ بہتر جگہ لگا دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران داخل مریضوں کے لواحقین بھی پھٹ پڑے۔ لواحقین نے کہا کہ جاں بحق تو اللہ کو پیارے ہوئے، جو زندہ ہیں ان کے لیے بھی کچھ کریں۔ ایک لواحق نے کہا کہ کل میری بیوی کا آپریشن ہے، جبکہ ایک اور لواحق نے کہا کہ مجھے بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی منتقل کر رہے ہیں۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ کچھ ایسا کریں کہ جو بچے زندہ بچ گئے ہیں، ان کو بچایا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل