Loading
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے دھرنے کو سنجیدگی سے نہ لینا ان کی ڈھٹائی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج ہمارے دھرنوں کا 14 واں روز ہے، ہمارے دھرنوں کے شرکا پورے ملک کی ترجمانی کر رہے ہیں، پہلے تین مقامات پر دھرنے جاری تھے، اب ان کا دائرہ کار بڑھ گیا ہے، ملک گیر احتجاجی کیمپ بھی لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے اس سے زیادہ شرم کی بات نہیں ہے کہ عوام کے احتجاج کے باوجود پٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے، پیٹرولیم لیوی کی صورت میں غریب عوام سے بھتا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول سستا نہیں کیا جا رہا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کی صورت میں ملک بھر میں ایک تاریخی جدوجہد شروع ہوچکی ہے، سیکڑوں مقامات پر ہونے والے احتجاج سے عوام میں شعور اور بیداری پیدا ہورہی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ فارم 47 کی حکومت ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فرق آنے کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہیں دیا جا رہا اور پیٹرولیم لیوی کے ذریعے غریبوں سے بھتا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اپنے اخراجات ایک ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک میں لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری گاڑیوں کا حجم بھی 1300 سی سی سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے لاہور میں طویل دھرنا دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو ’’اپنا شوق پورا کرلے‘‘۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل